خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 76
خطبات طاہر جلد ۱۰ 76 خطبہ جمعہ یکم فروری ۱۹۹۱ء ہے کہ ہم ہر گز اس فیصلے کو پسند نہیں کرتے۔یہ غلط فیصلہ ہے اور ملت اسلامیہ کے مفاد کے خلاف ہے۔جہاں تک Turkey کا تعلق ہے Turkey تو تمام دنیا میں مسلمان مفادات کے محافظ کے طور پر صدیوں سے اتنا نیک نام پیدا کئے ہوئے ہے کہ اسی نام سے یورپ میں یہ جانا جاتا تھا اور ترکی کی عثمانیہ حکومت سے مغربی طاقتیں بھی کانپتی تھیں اور جب بھی ترکی کا نام آتا تھا تو وہ سمجھتے تھے کہ جب تک یہ سلطنت قائم ہے اسلام کی سرزمین میں نفوذ کا ہمارے لئے کوئی موقعہ پیدا نہیں ہوسکتا، کوئی دور کا بھی امکان نہیں۔چنانچہ اتنی لمبی عظمت کی تاریخ کو ایک فیصلے سے اس طرح سیاہ اور بد زیب بنادینا اور ایسے داغدار کر دینا یہ اتنی بڑی خودکشی ہے کہ تاریخ میں شاید اس کی کوئی مثال نظر نہ آئے۔ترکی قوم پر ایسا داغ لگا دیا گیا ہے جواب مٹ نہیں سکے گا۔سوائے اس کے کہ کوئی عظیم انقلاب بر پا ہو اور پھر وہ اپنے خون سے اس داغ کو دھونے کی کوشش کریں۔جہاں تک Syria کا تعلق ہے اس کے لئے بھی کئی ایسی وجوہات تھیں جن کی بنا پر مجھے Syria یعنی شام سے ایسی توقع نہیں تھی۔ایک تو حافظ الاسد کا اپنا گولان ہائیٹ (Height) کا علاقہ اسرائیل نے ہتھیایا ہوا ہے اور بڑی دیر سے ان کی اسرائیل سے مخاصمت اور لڑائی چلی آرہی ہے اور اس تاریخی دور میں جب سے اسرائیل کا قیام ہوا ہے Syria نے اسرائیل کی مخالفت میں بڑی قربانیاں پیش کی ہیں اور اپنے علاقے بھی گنوائے لیکن اپنے مؤقف کو تبدیل نہیں کیا۔اس کے علاوہ صدام کی جو تصویر مغربی تو میں آج کھینچ رہی ہیں اس سے بہت زیادہ بھیا نک اور بدصورت تصویر صدر حافظ الاسد کی انہی قوموں نے کھینچ رکھی تھی اور اب تک وہی قائم ہے اس لئے بھی میں نہیں سوچ سکتا تھا کہ جب مغربی قو میں ایک طرف صدر صدام کو گندی گالیاں دیں گی اور اس کی کردار کشی کر رہی ہوں گی تو صدر حافظ الاسد کس طرح یہ سمجھیں گے کہ میں اس سے بچ کر ان کے ساتھ گلے مل سکتا ہوں لیکن ان کو یعنی صدر بش کو اور صدر حافظ الاسد کو میں نے اکٹھے ایک صوفے پر بیٹھے دوستانہ باتیں کرتے ہوئے ٹیلویژن پر دیکھا اور ان کی پالیسی کو یکسر اس طرح بدلتے دیکھا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے، کچھ مجھ نہیں آتی۔انسان ششدر رہ جاتا ہے کہ یہ کیا واقعہ ہوا ہے۔ایران سے مجھے نہ توقع تھی، نہ ہے نہ ہوگی کیونکہ ایران کے متعلق پہلے بھی میں بارہا کھلم کھلا یہ اقرار کر چکا ہوں کہ مذہبی عقائد سے اختلاف کے باوجود ایرانی قوم اسلام کے معاملے میں منافقت نہیں کرتی۔اسلام کی کچی عاشق ہے۔