خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 77 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 77

خطبات طاہر جلد ۱۰ 77 خطبہ جمعہ یکم فروری ۱۹۹۱ء ان کا اسلام کا تصور غلط ہو سکتا ہے یہ تو ہو سکتا ہے کہ شیعہ ازم میں بعض ایسے عقائد کے قائل ہوں جن سے ہم اتفاق نہیں کرتے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسلام کے تصور میں جہاں تک سیاست کا تصور ہے ان کے خیال میں بہت سی غلطیاں ہوں یعنی اسلام کے سیاسی تصور میں ان کے خیال میں غلطیاں ہوں اور ہیں میرے نزدیک لیکن جان بوجھ کر اسلام سے غداری کریں یہ ایرانی قوم سے ممکن نہیں ہے اور ان کی تاریخ بھی خدمت اسلام کی عظیم کارناموں سے روشن ہے بلکہ جتنی علمی خدمت اسلام کی وسیع تر ایران نے کی ہے جس کا ایک حصہ اب روس کے قبضے میں ہے اس خدمت کو اگر باقی اسلام کی خدمت کے مقابل پر رکھیں تو آپس میں تول کرنا بہت ہی مشکل ہوگا۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ایران کی خدمت کسی طرح دوسری سب خدمتوں سے پیچھے رہ گئی ہے۔الحمد للہ کہ ایران نے اپنی تو قعات کو پورا کیا اور باوجود اس کے کہ صدر صدام کی حکومت سے ایرانی حکومت کا شدید اختلاف تھا۔آٹھ سال تک نہایت خوفناک خونی جنگ میں یہ لوگ مبتلا رہے ہیں اور بہت ہی گہرے شکوے اور صدمے تھے۔اگر ایران ، عراق کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا تو دنیا سمجھ سکتی تھی اور مؤرخ اس کو معاف بھی کر سکتا تھا کہ اتنی خوفناک جنگ کے بعد اگر ایران نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے تو کوئی حرج نہیں ایسا ہو جایا کرتا ہے۔آخر انسانی جذبات ہیں جو بعض باتوں سے مشتعل ہو کر پھر قابو میں نہیں آتے۔اس وقت انسان گہری سوچوں میں نہیں پڑسکتا کہ اسلام کے تقاضے کیا ہیں ، ملت کے تقاضے کیا ہیں۔جذبات میں بہ جاتا ہے تو یہ باتیں سوچ کر ایک مؤرخ کہہ سکتا ہے کہ اس پہلو سے یہ قابل معافی ہے مگر ایران نے اگر چہ ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ تو نہیں کیا لیکن اس ابتلاء میں پوری طرح نیوٹرل (Neutral) رہتے ہوئے عراق کو عراق کی غلطی یاد کرائی اور مغربی طاقتوں کو ان کی غلطی یاد کروائی گویا کہ انصاف پر قائم رہا۔اس پہلو سے ایران کا نام انشاء اللہ اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ عزت سے لیا جائے گا۔یہ تو مختصر تبصرہ ہے سیاسی طور پر اسلام سے وفاداری یا عدم وفاداری کا جہاں تک تعلق ہے۔میں جب اسلام سے وفاداری یا عدم وفاداری کہہ رہا ہوں تو سیاسی معنوں میں کہہ رہا ہوں یعنی ملت اسلامیہ سے وفاداری یا عدم وفاداری کی بات ہو رہی ہے لیکن اس ضمن میں ایک یہ بات اور بھی بتانی چاہتا ہوں کہ ملت اسلامیہ میں دو ممالک ایسے تھے دو سلطنتیں ایسی تھیں جو مذہب کے لحاظ سے بھی