خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 75 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 75

خطبات طاہر جلد ۱۰ 75 خطبہ جمعہ یکم فروری ۱۹۹۱ء بات سنتے تھے تو وہ سمجھتے تھے شاید اپنے گلے سے بلا ٹال کر سعودی عرب پر پھینکتے ہیں اور اپنے انتقام لے رہے ہیں ورنہ اس میں کوئی حقیقت نہیں۔اب دنیا کے سامنے یہ بات کھل کر آچکی ہے اور وہ سارے مولوی بھی جو ان سے پیسے لے کر، ان کا کھا کر احمدیوں کو کبھی یہودیوں کے ایجنٹ قرار دیتے تھے۔کبھی انگریزوں کا ایجنٹ قرار دیتے تھے کھلے بندوں اب ان Saudians کو سعودی حکومت کے سربراہوں اور سارے جوان کے ساتھ شامل ہیں ، وہابی علماء کو، سب کو ملا کر یہودی ایجنٹ اور مغربی ایجنٹ قرار دے رہے ہیں اور ان کے متعلق ایسی گندی زبان استعمال کر رہے ہیں کہ وہ تو ہمیں زیب نہیں دیتی لیکن جیسا کہ پاکستان کی گلیوں میں اسی قسم کی گفتگو ہوتی ہے، ایسی ہی آوازیں بلند کی جاتی ہیں آپ جانتے ہی ہیں۔ایسی ہی آوازیں انگلستان میں بھی سعودیت کے خلاف بلند ہوئیں اور دوسرے ممالک کے متعلق بھی یہی اطلاع آرہی ہے کہ اب تمام عالم اسلام ان کی حقیقت کو سمجھا ہے اس لئے ان سے کسی قسم کی غداری پر تعجب کی کوئی گنجائش نہ تھی۔یقین تھا کہ یہی کریں گے یہی ان کا طریق ہے ، یہی ہمیشہ سے کرتے چلے آئے ہیں لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ موجودہ دور میں بعض ایسے ممالک نے بھی اسلام کے مفاد سے غداری کی ہے جن سے دور کی بھی توقع نہیں تھی اور اس میں بھی میں سمجھتا ہوں کہ امریکن دباؤ کے علاوہ سعودی دباؤ بھی اور سعودی اثر بھی بہت حد تک شامل ہے اور کچھ غربت کی مجبوریاں ہیں جن کے نتیجے میں بعض ملکوں نے اپنے ایمان نیچے ہیں۔جن ممالک سے کوئی دور کی بھی توقع نہیں تھی ان میں ایک پاکستان ہے، ایک ترکی ہے اور ایک شام ہے۔پاکستان سے تو اس لئے مجھے توقع نہیں تھی کہ وہاں کی حکومت چاہے کتنی ہی امریکن نواز کیوں نہ ہو میں بحیثیت پاکستانی جانتا ہوں کہ پاکستانی عوام اور پاکستانی فوج کا مزاج یہ برداشت ہی نہیں کر سکتا کہ مغربی طاقتوں کے ساتھ مل کر کسی مسلمان ملک پر حملہ کریں یا اس حملے کا جواز ثابت کرنے کے لئے ان میں شامل ہو جائیں۔کسی قیمت پر پاکستانی مزاج اس بات کو قبول نہیں کر سکتا لیکن اس کے باوجود موجودہ حکومت نے جب پوری طرح اس نہایت ہولناک اقدام کی تائید کی جو عراق کے خلاف اتحاد کے نام پر کیا گیا ہے تو میں حیران رہ گیا کہ یہ کیا ہوا ہے اور کیسے ہوا ہے لیکن الحمد للہ کہ دو تین دن پہلے پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل اسلم بیگ نے اس غلط فہمی کو تو دور کر دیا کہ فوج کی تائید اس فیصلے میں شامل ہے چنانچہ انہوں نے کھلم کھلا اس سے بریت کا اعلان کیا ہے اور کہا