خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 763
خطبات طاہر جلد ۱۰ 763 خطبہ جمعہ ۲۰ ستمبر ۱۹۹۱ء کرنے والا ہے۔اس کے بعد تیسری آیت ہے۔والتَّبِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ - وَالشَّبِقُونَ اور الْأَوَّلُونَ تو وہی ہیں مِنَ الْمُعْجِرِيْنَ وَالْأَنْصَارِ کہ جو مہاجرین میں سے ہیں اور انصار میں سے ہیں یعنی اعراب تو بعد میں آئے اس سے پہلے کون لوگ تھے مہاجر تھے اور انصار تھے جنہوں نے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ سے تربیت حاصل کی فرمایا ان کی تو بات ہی الگ ہے چنانچہ فرمایا وَالشَّبِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَجِرِيْنَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوهُمْ بِاِحْسَانِ اور وہ لوگ جو احسان کے ساتھ ان کی پیروی کرتے ہیں۔رَضِيَ الله هُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ان کی تو یہ کیفیت ہے کہ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی۔دونوں طرف سے رضا ہے۔وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى تَحْتَهَا الْأَنْهَرُ ان کے لئے خدا تعالیٰ نے ایسی جنات پیدا فرمائی ہیں جن کے اندر دائی نہریں بہتی ہیں۔ذلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ اور یہ بہت ہی بڑی کامیابی ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمُ وَرَضُوا عَنْهُ میں صرف صحابہ مراد نہیں ہیں بلکہ صحابہ کا ذکر چونکہ الگ گزر چکا ہے اس لئے عین ممکن ہے کہ صحابہ مراد ہی نہ ہوں بلکہ صحابہ کی پیروی کرنے والوں کا ذکر ہے جو بعد میں آنے والے ہیں۔پس اس پہلو سے میرے نزدیک اس آیت کا مضمون ہمیشہ کے لئے جاری وساری ہے۔یہ کہنا الله غلط ہے کہ صرف آنحضور ﷺ کے زمانے کے لوگوں کا تذکرہ ہورہا ہے۔اگر کلام الہی ہمیشہ کے لئے ہے اگر آنحضور ﷺ کا نمونہ اور آپ سے تربیت یافتہ صحابہ کا نمونہ ہمیشہ کے لئے ہے تو یہ فیض جو بھی پائے گا وہ ان انعامات سے بھی ضرور حصہ لے گا جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا گیا ہے لیکن ایک شرط داخل فرما دی۔وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِاِحْسَانِ اور وہ لوگ جنہوں نے احسان کے ساتھ اتباع کی ہے۔اب لفظ احسان قابل غور ہے۔یہاں احسان کس طرح مضمون سے مطابقت کھاتا ہے یہ بات قابل توجہ ہے۔آپ جب کسی کی پیروی کرتے ہیں تو عام معنوں میں تو احسان نہیں کرتے نا کہ اس پر ہم نے بڑا احسان کیا اس کی پیروی کی۔جس کی پیروی کی جاتی ہے وہ محسن ہوا کرتا ہے اور جو پیروی کرتا ہے اس پر اس محسن کا احسان ہوتا ہے تو قرآن کریم جب ظاہری مضامین کو الٹاتا ہے تو وہیں