خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 764 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 764

خطبات طاہر جلد ۱۰ 764 خطبہ جمعہ ۲۰ ستمبر ۱۹۹۱ء آپ کے قدم رک جانے چاہئیں اور آپ کو معلوم ہو جانا چاہئے کہ کوئی بہت ہی عظیم بات بیان فرمائی جارہی ہے جو عام مضامین سے مختلف ہے۔فرمایا وہ لوگ جو ان بزرگوں کی یعنی محمد رسول اللہ اللہ کے تربیت یافتہ مہاجرین اور انصار کی اداؤں کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو والشقون الأولُونَ جنہوں نے آغاز میں اسلام سیکھا اور لمبا عرصہ آنحضور کی تربیت پائی الأولون کہہ کر یہ بتا دیا گیا ہے کہ اگر چہ اعراب میں بھی اچھے اچھے پیدا ہوئے مگر ان کا مقابلہ تو نہیں ہوسکتا جنہوں نے آغاز ہی میں آنحضور ﷺ کی اتباع کی اور پھر آپ سے خود براہ راست تربیت پائی اور لمبا عرصہ یہ تربیت پائی ان کی پیروی احسان سے کرنے کا ذکر ہے۔یہاں احسان کے دو معنی ہیں ایک احسان کا معنی تو یہ ہے کہ وہ اپنی ذات پر احسان کرتے ہیں کسی اور پر احسان نہیں کرتے اتَّبَعُوهُمْ بِاِحْسَانِ یعنی اپنے نفس کو حسین تر بنانے کے لئے اپنے وجود کو پہلے سے زیادہ خوبصورت بنانے کی خاطر وہ ان کی پیروی کرتے ہیں۔یہاں پیروی کے مضمون میں اپنے نفس کی تربیت کا مضمون بالا رادہ طور پر داخل ہو جاتا ہے وہ جانتے ہیں کہ ہم خوبصورت نہیں ہو سکتے جب تک ان لوگوں جیسا بننے کی کوشش نہ کریں جس طرح ایک زمانہ میں بعض لوگ کسی ایکٹر کو اپنا ہیرو بنالیتے ہیں، کوئی کسی ایکٹس کو بنا لیتے ہیں اور ان کے طریق سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر وہ کرکٹ کا اچھا بالر ہے تو اس ادا سے Ball کرتے ہیں، اگر اچھا بیٹسمین ہے تو اس ادا کے ساتھ بیٹنگ کی کوشش کرتے ہیں۔اسی طرح بعض بے وقوف بچیاں جب نئی نئی بڑی ہوتی ہیں تو بعض ایکڑسوں کو انہوں نے اپنا مقصود اور مطلوب بنایا ہوا ہوتا ہے اور ان ہی کی نقالی کر رہی ہوتی ہیں اور بچے بھی اسی طرح کرتے ہیں۔چنانچہ مار کٹیں اس قسم کے کپڑوں وغیرہ سے بھری ہوتی ہیں جن پر کسی نہ کسی مشہور آدمی کا نام ہے کہ وہ اس طرح پہنا کرتا تھا، اس رنگ کی چیزیں پسند کرتا تھا تم بھی ایسا ہی کرو تو کس کیلئے ؟ اس لئے کہ وہ خوبصورت سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم حسین ہو جائیں گے۔پیروی میں احسان کا مضمون داخل ہے احسان کا مطلب ہے چیز کو اچھا بنا نا خوبصورت بنانا۔پس اِتَّبَعُوهُمْ بِاِحْسَانِ کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ان کی پیروی ان کو ماڈل سمجھتے ہوئے کرتے ہیں۔یہ جانتے ہوئے کہ جتنا ہم ان کے قریب ہوں گے اتنا زیادہ خود خوبصورت اور دل کش ہوتے چلے جائیں گے اور غور کرتے رہتے ہیں کہ انہوں نے کس کس رنگ میں قربانیاں دیں اور پھر