خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 761
خطبات طاہر جلد ۱۰ 761 خطبہ جمعہ ۲۰ ستمبر ۱۹۹۱ء اور فتنہ ارتداد اور زکوۃ نہ دینے کا فتنہ شروع ہو جاتا ہے۔تو قرآن کریم تو اس آخری دور میں جبکہ حکومت کامل ہوئی تھی اور یہ دو تین سال سے زیادہ کا عرصہ نہیں ہے اس عرصے کے بارہ میں فرماتا ہے کہ اعراب میں سے ایک بڑی اکثریت ایسی ہے جنہوں نے دل سے اسلام کو قبول نہیں کیا اور اس حد تک بہر حال نہیں کیا کہ خدا کی راہ میں کچھ خرچ کر سکیں۔جو کچھ دیتے ہیں وہ مجبوراً چٹی سمجھ کر دیتے ہیں اور دلوں میں نفرتیں دبائے بیٹھے ہیں اور تمہارے بدخواہ ہیں۔تم پر آسمانی مصائب کی راہ دیکھ رہے ہیں لیکن ساتھ ہی جیسا کہ قرآن کریم کا طریق ہے کسی قوم کو بحیثیت مجموعی مطعون نہیں فرما تا کسی قوم کو کلیه مجرم قرار نہیں دیتا بلکہ واقعاتی طور پر جواستثناء ہو سکتے ہیں ان کی بھی نشاندہی فرماتا ہے۔فرمایا:۔وَ مِنَ الْأَعْرَابِ مَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ قُرُبَةٍ عِنْدَ اللہ لیکن عجیب ہے انہیں اعراب میں سے ابھی تھوڑی دیر تر بیت پائی ہے لیکن ایسے عظیم الشان وجود پیدا ہو چکے ہیں يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ جواللہ پر ایمان لاتے ہیں اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں وَيَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ قُرُبتٍ عِنْدَ اللهِ وَصَلَواتِ الرَّسُولِ اور جو کچھ بھی خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس کے دو ہی مقاصد ہیں کہ اللہ کی قربت حاصل کریں اور رسول کی دعائیں حاصل کریں۔اس کے سوا ان کا کوئی منشاء نہیں۔جب روپیہ دیتے ہیں تو اس الله بات کو بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے کیا دیا اور کیسے دیا اور جزا ان کی سوائے اس کے کوئی نہیں کہ خدا ان کو قربت عطا فرمائے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی دعائیں ان کو پہنچیں۔أَلَا إِنَّهَا قُرُبَةٌ لَّهُمْ سنوان کی یہی ادا قربت پیدا کر رہی ہے مالی قربانی کا ایسا پیارا انداز ہے کہ قربت تو ان کو مل گئی۔أَلَا إِنَّهَا قُرْبَةً لَّهُمْ میں بہت ہی خوبصورت مضمون بیان فرمایا گیا ہے۔یہ نہیں فرمایا گیا کہ ہاں ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تمہیں قربت عطا کی جائے گی۔یا اس کے نتیجے میں تمہیں یہ ملے گا۔فرمایا إِنَّهَا قُرُبَةٌ مالی قربانی کا یہ انداز اپنی ذات میں قربت ہے۔یہ ان ہی کو نصیب ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کے قریب ہوں۔یہ مضمون ہے یعنی جزاء کا مضمون تو بعد کی باتیں ہیں وہ تو اپنی جگہ قائم ہے۔اِنَّهَا قُرْبَةٌ کا مطلب یہ ہے کہ اس طرز فکر کے لوگ جو اس بناء پر قربانی دیا کرتے ہیں وہ تو پہلے ہی اہل قربت ہیں۔جن کو خدا کا قرب نصیب نہ ہو ان کو اتنی حسین ادا ئیں آہی نہیں سکتیں۔خدا تعالیٰ کا عجیب کلام ہے حیرت میں انسان ڈوب جاتا ہے۔ذرا ٹھہر ٹھہر کر غور سے آپ پڑھیں تو حسن کے عجیب