خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 760
خطبات طاہر جلد ۱۰ 760 خطبہ جمعہ ۲۰ ستمبر ۱۹۹۱ء صل الله اس بات کو خوب اچھی طرح سوچ لیں کہ ان آیات میں سے جو پہلی آیت ہے اس کا اطلاق خالصہ اعراب پر ہوتا ہے یعنی ان بدوؤں پر جنہوں نے اجتماعی طور پر اسلام کو قبول کرلیا لیکن حضور اکرم ﷺ کی تربیت سے فیض یاب نہ ہو سکے لیکن حضور اکرم ﷺ کی تزکیہ کی طاقت ایسی تھی کہ ان اندھیروں میں بھی پہنچی ہے ان کو بھی پار کیا ہے اور ان میں بھی جگہ جگہ نور کی بہت ہی خوبصورت شمعیں روشن کر دی ہیں، دوسری آیت اس مضمون کو بیان کر رہی ہے۔اور تیسری آیت یہ بتاتی ہے کہ نمونہ وہی ہے جو انصار اور مہاجرین کا نمونہ ہے۔اعراب میں برے بھی ہیں اچھے بھی ہیں ، بہت خوبصورت قربانیاں کرنے والے بھی ہیں لیکن نمونے کے طور پر تم نے محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کے صلى ساتھیوں اور انصار اور مہاجرین کو پکڑنا ہے کیونکہ وہ آنحضور ﷺ کے تربیت یافتہ ہیں۔پہلی آیت میں فرمایا - وَمِنَ الْأَعْرَابِ مَنْ يَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ مَغْرَ مَا وَ يَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَابِرَ کہ ان اعراب یعنی بدوؤں میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں جو کچھ خرچ کرتے ہیں چھٹی سمجھ کر خرچ کرتے ہیں اور دل میں کڑھتے رہتے ہیں اور ساتھ ساتھ مخفی طور پر انہیں بددعائیں دیتے رہتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں مصیبت ڈال دی۔ہمارے اموال میں سے حصہ لینے والے آجاتے ہیں اور خدا کرے ان پر کوئی آسمانی حوادثاتی مصیبت نازل ہوا اور یہ ان مصیبتوں کا شکار ہو جائیں۔اس مضمون سے پتا چلتا ہے کہ یہ اسلام کے غلبہ کے دور کی بات ہے جبکہ اسلام اس حد تک غالب آگیا تھا کہ حکومت بھی آنحضرت ﷺ اور آپ کے غلاموں کے ہاتھ میں تھی اور عربوں پر ایک اسلامی حکومت قائم ہو چکی تھی۔اگر یہ نہ ہوتا تو چھٹی والی بات نہ ہوتی اور اسی میں دراصل آئندہ فتنوں کی پیشگوئی بھی تھی کہ جب بھی نظام حکومت ڈھیلا ہوگا تو وہ لوگ جو انتظار میں بیٹھے ہیں کہ تم پر کوئی مصیبت ٹوٹے تو وہ آزاد ہوں ، وہ نہ صرف یہ کہ خدا کی راہ میں پیسے دینے بند کر دیں گے بلکہ ان کے باغیانہ خیالات زور سے سر اٹھا ئیں گے اور شور پیدا کریں گے چنانچہ اس آیت کی روشنی میں یہ کہنا کہ نعوذ باللہ رسول اللہ ﷺ کی آنکھیں بند ہوتے ہی جو کچھ آپ کی اصلاح تھی وہ مٹ گئی اور فساد برپا ہو گئے محض ایک جاہلانہ اعتراض ہے اور اہل مغرب کی طرف سے بھی اور بعض مشرقی مفکرین کی طرف سے بھی ہمیشہ یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی ﷺ کی اتنی لمبی محبتیں کہاں گئیں۔۲۳ سالہ تربیت کے بعد اچانک جب آپ کا وصال ہوتا ہے تو اعراب بغاوت میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں