خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 759 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 759

خطبات طاہر جلد ۱۰ 759 خطبہ جمعہ ۲۰ ستمبر ۱۹۹۱ء اپنے زمانہ میں اچھی تھی لیکن اب فرسودہ ہوگئی ہے۔چودہ سوسال پہلے کی باتیں ہم کیسے کر سکتے ہیں؟ چودہ سو سال پہلے کی کتاب آج ہماری راہنمائی کیسے کر سکتی ہے تو ان کے لئے بھی یہ چیلنج ہے۔صرف مذہب کے لئے نہیں بلکہ تمام دنیا کے مالی نظام جو آج تک انسانی کاوشوں کا نتیجہ ہیں ان کے فلسفے کو جانچ لیجئے ، ان کو اکٹھا دعوت دے دیں کہ جاؤ اور سارے مل کر اپنے اپنے فلسفوں اور اپنے اپنے نظام سے چوٹی کے نکتے نکال کر لاؤ اور پھر اسلام کے مالی قربانی کے نظام سے مقابلہ کرو اور پھر یہ بتاؤ کہ اسلام کے مالی قربانی کے نظام میں کہاں اصلاح کی اور ترقی کی گنجائش ہے کچھ کر کے دکھاؤ تو ہم مانیں گے۔محض خیالی تبصروں کے اوپر تو انسان اپنے دینی تصورات کو تبدیل نہیں کیا کرتا یا اعتقادات کو تبدیل نہیں کیا کرتا۔تو یہ وہ نظام ہے جس کے متعلق ہر احمدی کو خوب اچھی طرح واقف ہونا چاہئے اور عملاً وہ واقف ہو رہا ہے اور یہ نظام اگر آج دنیا میں کہیں رائج ہے تو جماعت احمدیہ میں ہی اس کا ایک پہلو رائج ہے۔یعنی وہ جو طوعی چندوں کا نظام ہے وہ جماعت احمدیہ میں رائج ہو گیا ہے۔اور حسن واحسان میں ترقی کر رہا ہے اور دن بدن زیادہ نکھر کر سامنے آتا جا رہا ہے اور اس نئے بناؤ سنگھار میں ایک ادنیٰ سا موقع بھی ایسا پیش نہیں آتا کہ قرآنی تعلیم پر اضافے کی ضرورت پیش آئے اس کے دائروں میں یہ سب ترقی ہو رہی ہے اور اس کی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہم جانتے ہیں ابھی بہت کچھ آگے بڑھنے کی گنجائش موجود ہے۔پس آج پندرہویں صدی کا انسان یا چودہویں صدی کا انسان مڑ کر راہنمائی کے لئے دیکھ رہا ہے اور قرآن کریم کی تعلیم سے جب وہ استفادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے کہ ابھی بہت کچھ کرنے والا باقی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ زمانے کے آخر تک قرآن بنی نوع انسان کا ساتھ دے گا۔وہ ساتھ دے سکیں نہ دے سکیں یہ الگ بات ہے لیکن قرآن کی تعلیم کسی دنیاوی فکر سے یاد نیاوی ترقی سے پیچھے نہیں رہ سکتی۔بہر حال اس مختصر تعارف کے بعد اب میں ایک خاص پہلو کو جماعت کے سامنے نمایاں طور پر پیش کرنا چاہتا ہوں۔قرآن کریم نے دو طرح کی مالی قربانی کرنے والوں کا حال اعراب کے حوالے سے بیان فرمایا ہے۔اس میں آنحضرت ﷺ کے تربیت یافتہ غلاموں کا ذکر نہیں ہے اس لئے