خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 758
خطبات طاہر جلد ۱۰ 758 خطبہ جمعہ ۲۰ ستمبر ۱۹۹۱ء اور اتنا گہرا ہے کہ اگر کسی غیر مذہب والے کو اس موضوع پر کوئی مسلمان متوجہ کرے اور اسے دعوت دے کہ تم اپنے مذہب ہی سے نہیں دنیا کے تمام مذاہب سے خدا کی خاطر مالی قربانی دینے والے مضامین کو اکٹھا کر لو اور ہم قرآن کریم سے ان آیات کو پیش کریں گے اور پھر دیکھو کہ کیا قرآن کی تعلیم بھاری رہتی ہے یا ساری دنیا کی اجتماعی کتابوں کی مجتمع تعلیم قرآن کریم کے اوپر بھاری ہوتی ہے۔میں نے یہ موازنہ بڑے غور سے کیا ہے اگر چہ تمام مذاہب کی تعلیم پر بہت گہری نظر ڈالنے کی توفیق تو نہیں مل سکی لیکن موازنہ مذاہب کا چونکہ مجھے شوق رہا ہے میں نے اصل کتا بیں بھی پڑھی ہیں ، بعد کے زمانے کی کتابیں بھی پڑھیں اور ان پر اپنوں اور غیروں نے جو تبصرے لکھے ہیں وہ بھی بہت حد تک پڑھنے کی توفیق ملی اس لئے میں اپنے ذاتی علم کی بناء پر یہ بات کر رہا ہوں محبت کے کسی دعوے کی بناء پر نہیں۔قرآن کریم سے ہر مسلمان کو محبت ہے۔وہ اس کے متعلق بلند بانگ دعاوی بھی کرتا ہے لیکن حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے احمدیت کو جو نئی ادا سکھائی وہ یہ ہے کہ محض محبت کی بناء پر دعوے نہ کرو بلکہ تجربے کی بناء پر دعوے کرو،خود دیکھو پرکھو، خوب اچھی طرح غور کے بعد بات کرو۔پس یہ بات جو میں کہہ رہا ہوں پورے غور کے بعد کہہ رہا ہوں۔آپ میں سے ہر احمدی اس نسخے کو آزما کر دیکھ سکتا ہے اور ہرگز کبھی وہ تمام دنیا کے مذاہب کی اجتماعی طاقتوں سے بھی اس معاملہ میں شکست نہیں کھائے گا۔یہ تعلیم اتنی وسیع ہے انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی اور اتنے گہرے فلسفے پر مبنی ہے اور ہر اونچ نیچ کو اس طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ مالی قربانی کے نظام کا ایک پورا جہان ہے جو اپنی ذات میں کامل ہے اور اس میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوسکتی۔اس تفصیل کے ساتھ یہ سمجھانے کی اس لئے ضرورت ہے کہ آج کل جو بعض نئے نئے فتنے پیدا ہوتے ہیں ان میں بارہا یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اسلام کامل کیسے ہو گیا۔دنیا ترقی پذیر ہے اور ہر چیز میں پہلے کی نسبت کسی نہ کسی صورت میں ترقی کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔کیا ہم ایک جامد مذاہب کو مان جائیں گے جو اپنی ذات پر کھڑا ہے اور ماضی کے کسی ایک نقطہ پر آکر جمود اختیار کر گیا ہے وہاں سے آگے نہیں چلتا۔یہ اعتراض سادہ لوح مسلمانوں پر بعض دفعہ برے اثرات مترتب کرتا ہے۔بعض دفعہ ان کو پھسلانے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور آج کل جئے سندھ کی جو تحریک ہے اس میں بھی سید صاحب نے جو اپنا فلسفہ حیات پیش کیا ہے اس میں نمایاں طور پر اس بات کو اٹھایا ہے کہ قرآنی تعلیم