خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 734 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 734

خطبات طاہر جلد ۱۰ 734 خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۹۱ء اٹھا ر ہے ہیں کتنی بڑی ذمہ داری قبول کر رہے ہیں۔ابھی سویڈن سے میں آیا ہوں۔وہاں لجنہ میں میں حاضر ہوا اور میں نے کہا کہ آپ سے براہ راست بھی بات کرتا ہوں۔کوئی کسی قسم کا سوال کرنا ہو کوئی شکایت کرنی ہو تو بے تکلفی سے کریں اس پر ایک بچی نے اٹھ کر کہا کہ آج تک ہمیں سویڈش زبان میں آپ کا خطبہ نہیں پہنچایا گیا۔آپ پتہ نہیں کیا کیا کہتے رہتے ہیں۔لوگوں سے ہم سنتے رہتے ہیں۔اس نے کہا یہاں پلے ہیں ، یہیں پیدا ہوئے ، یہیں بڑے ہوئے ، ہمیں اردو نہیں آتی اور ہم مجبور ہیں ہمارا حق ہے کہ ہمیں بھی پتہ لگے کہ خلیفہ وقت ہم سے کیا تقاضے کرتا ہے۔میں حیران رہ گیا دیکھ کر کہ ایک تجربہ کار پر انا مربی ، ساری عمر کا واقف زندگی ملک کا امیر ہواور بار بار سننے کے باوجود اور علم رکھنے کے باوجود ان لوگوں سے غافل ہو اور ان کی ضرورتوں سے غافل ہو۔اور مقامی مربی بھی اسی طرح ایک تربیت یافتہ پرانے بہت ہی وفادار انسان اور دوسری خوبیوں کے لحاظ سے مرصع لیکن بچوں سے غافل ہیں۔ان کو کیوں خیال نہیں آیا کہ نظام جماعت کا فرض ہے کہ ان تک سویڈش زبان میں خطبہ پورے کا پورا پہنچایا جائے۔جن جماعتوں میں اخلاص ہے، تقویٰ ہے وہاں یہ کام کرنے میں کوئی زیادہ دیر نہیں لگتی۔عربی زبان میں ہمارے پاس بہت تھوڑے ماہر ہیں لیکن بعض ایسے ہیں جن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اور نظام جماعت سے عشق ہے اور خلافت سے ایسی وفا کا تعلق ہے کہ اس کی مثال دوسری جگہ کم نظر آتی ہے۔ہمارے ایک ایسے ہی بزرگ سید حلمی الشافعی ہیں وہ ہفتہ نہیں گزرتا کہ انگریزی سے اس کا عربی ترجمہ کر کے ساتھ ساتھ بھجواتے رہتے ہیں۔اور وہ سلسلے کے ملازم نہیں ہیں تنخواہ دار نہیں ہیں۔اپنی کمائی کے لئے اپنا وقت ہے اور الگ ان کو وقت دینا پڑتا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ اور بہت سی کتب کے تراجم کر چکے ہیں اور بہت سے نظام جماعت کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں لیکن ایک شوق ہے اور ذمہ داری کا احساس ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ خطبات ایسے ہیں جن کو ہر عرب تک پہنچنا چاہئے اور احمدی عرب کا حق ہے کہ اس تک یہ آواز عربی زبان میں پہنچے۔ان کو اس بات کا علم ہے لیکن جو بعض امراء ہیں اور جو بعض پرانے مربی ہیں ان کو احساس نہیں۔میں نے اس سے پہلے کئی دفعہ خطبوں میں اشارہ بغیر نام لے کر یہ باتیں سکھائیں اور سمجھائیں۔لیکن جن تک بات نہ پہنچنی ہونہیں پہنچتی معلوم ہوتا ہے ان تک بات نہیں پہنچتی۔اگر ان کے دماغ میں