خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 735
خطبات طاہر جلد ۱۰ 735 خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۹۱ء یہ بات پہنچ جائے کہ اس کی اہمیت کیا ہے تو پھر ساری جماعت تک ضرور پہنچے گی۔پس جو opaque ہو وہی block کیا کرتا ہے۔opaque ایسی کشیف چیز کو کہتے ہیں جو روشنی کو اپنے تک پہنچا کر وہیں ٹھہرا دیتی ہے اور روشنی اس کی سطح تک رہتی ہے اور شفاف وہ چیز ہوتی ہے جو اپنے میں سے گزرنے دے۔پس جو کثیف چیز ہو اس سے روشنی اس لئے نہیں گزرتی کہ خود اس کے اندر بھی تو داخل نہیں ہوئی ہوتی۔جس کے اندر روشنی داخل ہو جائے اس مادے سے پھر ضرور روشنی باہر بھی نکلتی ہے اور دوسروں کو بھی فیض پہنچاتی ہے اس لئے باقی امور میں ایسے عہدے دار خواہ کیسے ہی نیک کیوں نہ ہوں مخلص ہوں ، فدائی ہوں ، عمر بھر کی خدمتیں ہوں لیکن بعض دفعہ ایک معاملے میں مخفی تکبر کا شکار ہونے کے نتیجے میں یا بے وقوفی کے نتیجے میں ، جو بھی آپ کہہ لیں وہ کسی ہدایت پر عمل نہیں کر رہے ہوتے اور اس سے بہت بڑا نقصان جماعت کو پہنچارہے ہوتے ہیں۔دوسری بعض جماعتیں ہیں جہاں ایک ہی آدمی ہے ، وہ فوری طور پر اکیلا سارا بوجھ اٹھاتا ہے اور تراجم کر کے پھر ان کو کثرت کے ساتھ شائع کراتا ہے، اور ایسی جماعتوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے دن بدن معیار ترقی پر ہے اور ساری جماعت کو پتہ لگ رہا ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔ساؤتھ انڈیا میں ہماری ایسی جماعتیں ہیں جو اردو نہیں سمجھتیں۔وہاں ہمارے مولوی محمد عمر صاحب مبلغ سلسلہ ہیں ان کو خدا تعالیٰ نے اس بات کا جنون دیا ہوا ہے کہ ادھر آواز کان تک پہنچی ، ادھر فوری طور پر اس کے ترجمے کئے اور ساری جماعتوں تک پہنچائے۔وہاں سے جو جماعتوں کے خط ملتے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے۔وہ ہمارے ساتھ ہیں۔ان کو افریقہ کا بھی پتہ ہے، ان کو امریکہ کا بھی پتہ ہے ، ان کو چین، جاپان کا بھی پتہ ہے۔جماعت کے سارے مسائل کا علم رکھتے ہیں اور ان کے خطوں میں روشنی ہے۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ کر مجھ سے بات کر رہے ہیں لیکن جہاں یہ خطبات نہیں پہنچتے وہاں بچے ہوں یا بڑے ہوں وہ بے چارے جماعت سے کٹے ہوئے ہیں۔اور خدا تعالیٰ نے جس پر آخری ذمہ داری ڈالی ہے اس سے کٹ کر تو پھر روحانی ترقی نہیں ہوسکتی اس لئے بہت ہی اہم باتیں ہیں۔یہ نہ سمجھیں کہ نعوذ باللہ میں امیروں کی ناجائز حمایت کرتا ہوں۔میں ان کی ہر بات پر نظر رکھتا ہوں جہاں تک پیش چلے ان کو سمجھانے کی بھی کوشش کرتا ہوں اور کئی کئی دفعہ سرزنش سے بھی کام لینا پڑتا ہے۔جماعت میں کوئی ڈکٹیٹر نہیں ہے۔اگر مجھ سے کوئی شکایت ہے مجھ تک