خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 733
خطبات طاہر جلد ۱۰ 733 خطبہ جمعہ ۶/ ستمبر ۱۹۹۱ء جب وہ ٹھو کر بھی کھا سکتے تھے مگر متقی کو خود خدا ہاتھ رکھ کر بچالیتا ہے جس کے اندر بیماری ہو وہ نہیں بچا کرتا۔اس ٹھوکر سے تو بچ گئے لیکن اس کے قریب ضرور پہنچ گئے تھے۔خود انہوں نے مجھے لکھا کہ میرے پر ایک ایسا وقت آیا تھا کہ یوں لگتا تھا کہ میں کنارے تک پہنچ چکا ہوں اور وجہ یہی تھی کہ کچھ جماعتوں میں کچھ بدتمیز لوگ ، نظام جماعت کیسا تھ گستاخی سے پیش آنے والے ، چھوٹے چھوٹے کمینے جھگڑے کرنے والے ، بات بات پر ایک دوسرے کو گالیاں دینے والے ، وہاں سے ایسے بد نصیب لوگ آگئے تھے جنہوں نے سارے تالاب کو گندا کیا ہوا تھا اور ابھی بھی اس کے بداثرات موجود ہیں اس لئے آپ کو تقویٰ سے کام لینا چاہئے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جہاں تک امراء کا تعلق ہے ان سے غلطیاں ہوتی ہیں۔لیکن سب سے بڑی غلطی جو بعض امراء کرتے ہیں اور آج بھی کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جب خلیفہ وقت ان کو ایک کھلی کھلی نصیحت کرتا ہے تو اس کو نظر انداز کرنے کا ان کو کوئی حق نہیں۔جماعت کی عدم تربیت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ساری جماعت تک خلفاء کے خطبے نہیں پہنچتے۔میں جب زور دیتا ہوں کہ میرے لفظوں میں جماعت تک یہ آواز پہنچایا کرو تو مجھے ذرا بھی اپنے خطبے پڑھوانے کا شوق نہیں ہے۔نعوذ بالله من ذلك اگر یہ نعوذ باللہ دکھاوا ہے تو میں اس دکھاوے پر لعنت ڈالتا ہوں۔مگر میں جانتا ہوں میرا دل جانتا ہے کہ بڑی محنت کے ساتھ بڑے سوچ و بچار اور دعاؤں کے ساتھ میں ایک تربیت کا پروگرام بنا تا ہوں۔مدتوں اس پروگرام پر وقت خرچ کرتا ہوں اور میرا دل چاہتا ہے کہ ہر احمدی میری آواز میں میری بات خودسن لے۔اگر نہیں سمجھ سکتا تو اس کے ترجمے اس تک پہنچ جائیں اور ان ترجموں کو سن کر وہ فائدہ اٹھائے کیونکہ وہ الفاظ دل کی گہرائی سے نکلتے ہیں۔خواہ فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے ان میں کیسے ہی نقص کیوں نہ ہوں لیکن بڑا فرق ہے اور سچے دل کے درد سے جو بات اٹھتی ہے، اس کا اور اثر ہوتا ہے۔مگر بعض امراء ایک مخفی تکبر کی وجہ سے اس طرف توجہ نہیں دیتے چنانچہ بعض عہدے دار جو سلسلے کے مربی ہیں اور انہی کو امیر مقرر کیا گیا ہے یا عہدے دیئے گئے ہیں تو سب سے پہلے ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان باتوں پر عمل کریں۔لیکن مخفی تکبر سے مراد یہ ہے کہ ان کو پتہ ہی نہیں کہ وہ متکبر ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ خلیفہ وقت کی بات پہنچ گئی ، ٹھیک ہے ہم جو اس کا خلاصہ تیار کر دیتے ہیں پس وہی کافی ہے اور ہم نے پہنچادی اور فرض پورا کر دیا۔اس کے نتیجہ میں کئی نسلیں تباہ ہو سکتی ہیں۔ان کو یہ پتہ نہیں کہ وہ کتنا بڑا بوجھ