خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 652 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 652

خطبات طاہر جلد ۱۰ 652 خطبه جمعه ۹ /اگست ۱۹۹۱ء نے پوچھا کہ تمہاری ساس کا کیا حال ہے؟ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ساس زندہ ہے،اس کی وفات کا صدمہ نہیں تھا بلکہ محبت کی وجہ سے، اس نے کہا آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ کیسی احسان کرنے والی ساس ہے۔کس طرح اس نے مجھے پیار دیا ہے اس کی برکت ہے کہ ہمارا گھر جنت بن گیا ہے۔ایسی ساسیں یقین وہ مائیں ہیں جن کے متعلق حضرت محمد مصطفی اللہ نے خبر دی کہ ان کے پاؤں کے نیچے جنت ہے۔پس ایک عورت کی نیتوں کا سفر آپ دیکھیں۔اس کا پہلا قدم فیصلہ کرتا ہے کہ میں نے اور میری اولا د نے جہنم کی طرف جانا ہے یا جنت کی طرف جانا ہے۔کتنا گہرا ارشاد نبوی ہے۔حکمتوں کے سمندر کو ایک کوزے میں بند فرما دیا ہے ساری انسانی زندگی کے تمام نفسیاتی مسائل کو حل فرما دیا جب فرمایا: انما الاعمال بالنیات یا درکھنا تمہارے اعمال تمہاری نیتوں سے تشکیل پائیں گے۔اگر تمہاری نیتیں جنت نشان ہوں گی تو تمہارے اعمال جنت نشان بنیں گے، اگر تمہاری نیتوں میں جہنم کی آگ ہوگی تو تمہارے اعمال بھی آگ کی وہ بھٹی بن جائیں گے جوان میں پڑے گا وہ بھی جہنم میں مبتلا ہوگا اور جن کے وہ اعمال ہوں گے وہ بھی اس بھٹی میں جلیں گے۔پس نیتوں میں فتور نہ ہونے دیں اور اسی سے ہمارے معاشرے کو جنت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔پھر اسی طرح والد ہے اُس کی نیتوں کا بھی بہت حد تک دخل ہوتا ہے۔بعض والد چاہتے ہیں کہ ایسا رشتہ ملے جس کے نتیجے میں بیٹے کو نوکریاں اچھی مل جائیں، حسب نسب کے خاندانی تعلقات ایسے ہوں کہ اس کے نتیجے میں عزت اور مرتبہ بلند ہو۔ایسا رشتہ ملے جس کے نتیجے میں اس کو جرمنی ، انگلستان یا امریکہ میں رہائش نصیب ہو جائے۔غرضیکہ کئی قسموں کے نیتوں کے فتور ہیں جو لے کر وہ اپنے خاندان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔اسی طرح خاوند کی بہنیں یعنی نندیں ہیں وہ بھی اپنا ایک الگ تصور جمائے رکھتی ہیں اور عموماً عورتوں کے تصور میں آنے والی پر حکومت کا تصور شامل رہتا ہے۔پھر اس کے برعکس بھی صورت ہے۔بعض بیٹیوں کو رخصت کرنے سے پہلے ان کی مائیں ان کی بہنیں ان کے عزیز اُن کے کان میں کئی قسم کی باتیں پھونکتے ہیں۔ان کو کہتے ہیں خبر دار ، دب کر نہیں رہنا کوئی ایک بات کرے تو دس جواب دو، ایسی تیسی کوئی تمہارے دوپٹے پر ہاتھ ڈالے تو اس کی چوٹی پر ہاتھ ڈال دو اس طرح دبکے سے رہو کہ شروع سے ہی سارا خاندان تمہارے نیچے لگ