خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 653
خطبات طاہر جلد ۱۰ 653 خطبه جمعه ۹ /اگست ۱۹۹۱ء جائے اور پھر مسلسل بیٹیوں کو سمجھانے کیلئے کانفرنسز ہوتی ہیں۔بیٹیوں کو گھر بلایا جاتا ہے اور ان کو سمجھایا جاتا ہے کہ دیکھو تمہاری ساس نے یہ بات کی تمہاری نند نے یہ بات کی۔ایسا فساد ڈالو کہ خاوند ان کی گنتیں پکڑ پکڑ کر اُن کو گھروں سے نکالے اور یا یہ دیکھو کہ خاوند کہیں اپنے ماں باپ پر اپنے بھائیوں پر اپنے عزیزوں پر خرچ تو نہیں کر رہا۔اگر وہ کر رہا ہے تو اس کے ہاتھ روکو۔یہ تمہاری اولا دکا حق ہے جو وہ دوسروں کو دے رہا ہے۔غرضیکہ کئی قسم کی کانفرنسیں ہو رہی ہوتی ہیں اور وہ یہ نہیں سمجھ رہے ہوتے کہ وہ بیٹی کے لئے جنت نہیں بلکہ جہنم بنارہے ہیں۔پس قصور محض ایک طرف کا نہیں۔قصور بعض دفعہ دونوں طرف کا اور بعض دفعہ ایک طرف کا ہوتا ہے لیکن ہر دفعہ قصور نیت کا قصور ہوتا ہے اور نیتوں کا جو فتور ہے وہ دنیا میں یا جنت بن کر نکلتا ہے یا جہنم بن کر نکلتا پس اپنے بیاہ شادی کے معاملات کو طے کرنے میں سب سے پہلے اپنی نیتوں کا محاسبہ کرنا چاہئے تبھی قرآن کریم کی ایک آیت جس میں اس مضمون کو بیان فرمایا گیا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ع نے نکاح کے موقعہ پر تلاوت کے لئے چنی اور وہ تین آیات جونکاح کے موقعہ پر تلاوت فرمایا کرتے تھے ان میں ایک یہ آیت بھی داخل ہے کہ : يَايُّهَا الَّذِينَ امَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا (الاحزاب: استا۷۲) ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ اے وہ لوگو! جوایمان لائے ہواللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا اور سیدھی بات کہو۔یہاں سچی بات کا محاورہ استعمال نہیں ہوا بلکہ سیدھی بات کا محاورہ استعمال ہوا ہے اور اس پر جہاں تک میں نے غور کیا ہے سوائے اس کے کچھ سمجھ نہیں آتی کہ جو نیت میں ہے وہ بات بتایا کرو۔اس پر پردے ڈھانپ کر بات نہ کیا کرو۔دو قسم کے قول ہوتے ہیں۔ایک بیچ والا قول ہے۔اس میں بعض دفعہ جھوٹ نہ بھی بولا جائے تو بیچ ڈال کر بات کی جاتی ہے اور اگلے کو کچھ مجھ نہیں آتی تو یہ نہیں فرمایا کہ سچ بولو کیونکہ بعض دفعہ سچ بھی ایسا بولا جاتا ہے کہ جس کے نتیجے میں مخاطب صحیح بات کو سمجھ نہیں سکتا اور جنگ کے موقعہ پر اسی قسم کا سچ ہے جسے آنحضرت ﷺ نے خدعہ قرار دیا یعنی اگر وہ جھوٹ ہوتا تو ہرگز انبیاء اس طرز عمل سے کام نہ لیتے۔رہتا سچ ہے مگر جنگ کے دوران جائز ہو جاتا ہے اور اس تھوڑے سے بھیس بدلے ہوئے