خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 651 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 651

خطبات طاہر جلد ۱۰ 651 خطبه جمعه ۹/اگست ۱۹۹۱ء ہورہے ہیں اور مسلسل گھر اس بربادی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس جہنم کا سفر نیت سے شروع ہوا تھا اور نیتوں کی اینٹوں سے یہ سٹرک تعمیر ہوئی اور اسی پر چلتے ہوئے خاندان کے خاندان اور ان کی نسلیں جہنم وارد ہونے کا سفر اختیار کرتی ہیں اور کسی کو ہوش نہیں آتی۔پس نیت کا فتور ہے جو سب سے زیادہ خطرناک چیز ہے۔اس نیت کو آپ تقویٰ سے بھر دیں تو یہی زندگی جنت بن جاتی ہے اس کے برعکس بعض مائیں ایسی ہوتی ہیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا، وہ اپنی بہو کے لئے نیک گن چاہتی ہیں۔نیک گن سے مراد ہے نیک اخلاق ، دیندار شریف الطبع اور میں جانتا ہوں بہت سی ایسی مائیں ہیں جو پیغام بھیجتی ہیں کہ ہمیں آپ کی کوئی چیز نہیں چاہئے۔ہمیں آپ کی بیٹی سے پیار ہے، بہت نیک فطرت ہے ،سعید فطرت ہے ، اچھی ہے ہمارے بیٹے کیلئے بھی اچھی ہوگی ، اپنی اولاد کے لئے بھی اچھی ہوگی۔اس لئے آپ جس طرح چاہیں اس بیٹی کو رخصت کر دیں ہمیں اور کسی چیز میں کوئی دلچسپی نہیں اور پھر اس بیٹی کو بڑی چاہت کے ساتھ گھر میں لاتے ہیں، چاہت کے ساتھ رکھتے ہیں اس سے ایسا حسن سلوک کرتے ہیں کہ وہ بیٹی ان پر فدا ہونے لگتی ہے۔بہت سے ایسے واقعات میرے علم میں ہیں۔ایسی ساسیں جن کی بہوئیں ان کو دعائیں دیتی ہیں اور ان کا گھر خدا کے فضل سے جنت نشان بن جاتا ہے۔ایسی ہی ایک نیک خاتون ابھی کچھ عرصہ پہلے لاہور میں فوت ہوئیں۔ہمارے منیر جاوید صاحب جو جلسہ سالانہ میں بڑی اچھی آواز میں نظم پڑھا کرتے تھے ان کی والدہ ہیں۔ان کی بہو مجھے ملنے آئی تو ذکر کرتے ہی اس قدر روئی ، اس قدر اس کی آواز گلو گیر ہوئی کہ منہ سے بات نہیں نکلتی تھی میں حیران تھا کہ ساس فوت ہوئی ہے اور اتنا عرصہ بھی گزر گیا دو یا تین مہینے جتنے بھی تھے۔یہ کیا بات ہے؟ تو اس نے کہا کہ میں آپ کو بتا نہیں سکتی وہ کیسی ساس تھی۔اس نے مجھے ماؤں سے زیادہ پیار دیا ہے اور میری کمزوریوں کو اس طرح نظر انداز کرتی تھی جیسے مجھ میں کوئی کمزوری کبھی تھی ہی نہیں اور اس کی وجہ سے میری ساری زندگی اس کے لئے دعا بن گئی ہے اور میں ہمیشہ اس کو دعاؤں میں یاد رکھوں گی۔آپ بھی اس کیلئے دعا کریں۔ایسی ساسیں خدا کے فضل سے دنیا میں اور بھی ہیں اور مجھے سب سے زیادہ خوشی اس وقت ہوتی ہے۔جب کوئی بہوملاقات کے دوران اپنی ساس کا ذکر کرتی ہے تو محبت سے اس کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ایسے بہت سے واقعات ہیں۔جرمنی میں ملاقاتوں کے درمیان بھی ایک بہو لی تو اس سے میں