خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 607 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 607

خطبات طاہر جلد ۱۰ 607 خطبہ جمعہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۹۱ء بٹ گئے اور اس کے نتیجہ میں افتراق کا عمل شروع ہو گیا۔پس روحانی جماعتوں کو ہمیشہ یہ بات یادرکھنی چاہئے کہ اگر دل میں ایک دوسرے سے دوری کی تمنا پیدا ہو جائے ،اگر ایک دوسرے سے محبت میں کمی آجائے۔ایک دوسرے سے مل کر لطف اندوز ہونے کی بجائے ایک دوسرے کے قرب سے طبیعت میں وحشت پیدا ہوتی ہو تو یہاں بالآخر پھٹنے کا آغاز ہو چکا ہے اور آئندہ تفریق کی بنیا د اسی دوری کی تمنا میں ہوتی ہے اور پھر آخر کا رایسی قومیں ایک دوسرے سے جدا ہو جایا کرتی ہیں اور تفریق کا عمل ایک دفعہ جاری ہو تو پھر رکا نہیں کرتا۔اس لئے جماعت احمدیہ کو اخوۃ بن کر رہنا ضروری ہے۔ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے کی محبت میں منسلک رہنا چاہئے اور جہاں بھی یہ خطرہ دیکھیں کہ احمدی کو احمدی سے دوری ہورہی ہے وہاں ان کے دلوں میں خطرے کے الارم بج جانے چاہئیں اور یہ دعا نہیں کرنی چاہئے کہ بُعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا بلکہ یہ دعا کرنی چاہئے جس کا پہلے ذکر گزر چکا ہے کہ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوْبِنَا غِلَّا لِلَّذِينَ آمَنُوا (الحشر: 11) اے ہمارے خدا ہمارے دلوں میں ٹیڑھا پن اور اپنے بھائیوں سے بھی پیدا ہو رہی ہے اب بھائیوں کے خلاف نفرتیں جنم لینے لگی ہیں پس اے خدا تو فضل فرما اور ہمارے دلوں میں اپنے مومن بھائیوں کے لئے کسی قسم کی نفرت پیدا نہ ہونے دے۔ایک دعا سورہ فاطر آیت ۳۸ میں سے لی گئی ہے اور وہ ہے: وَهُمْ يَصْطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَا أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ أَوَلَمْ نُعَمِّرُكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُفِيْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاءَ كُمُ النَّذِيرُ فَذُوقُوا فَمَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ نَّصِيرٍ (فاطر: ۳۸) که وه شی چیخ کر خدا کو پکاریں گے یعنی جب ان کو سزادی جائے گی تو ایک شور پڑ جائے گا ایک کہرام اٹھ کھڑا ہوگا وہ کہیں گے رَبَّنَا أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اے خدا ہمیں اس عذاب سے نكال نَعْمَلْ صَالِحًا ہم یقینا اچھے عمل کریں گے غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ ان اعمال کے سوا جو ہم کیا کرتے تھے جب کہہ دیا کہ ہم اچھے عمل کریں گے تو اس تکرار کی کیا ضرورت ہے کہ غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ یعنی وہ اعمال نہیں کریں گے جو ہم کیا کرتے تھے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دنیا میں بداعمال لوگ ہمیشہ یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اچھے عمل کر رہے ہیں چنا نچہ قرآن کریم نے شروع ہی