خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 608
خطبات طاہر جلد ۱۰ 608 خطبہ جمعہ ۹ار جولائی ۱۹۹۱ء میں ان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا وَ إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْ افِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ ( البقرہ:۱۲) کہ جب ان کو کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو بڑے اچھے اچھے کام کرنے والے لوگ ہیں۔ہم اصلاح کر رہے ہیں تو فرمایا:۔۔قیامت کے دن جب سزا کا وقت آئے گا تو اس وقت وہ خوب سمجھ چکے ہوں گے کہ ہم اچھے اعمال کا نام لے کر بدیاں کیا کرتے تھے وہ خدا سے یہ نہیں کہیں گے کہ ہمیں بھیج دے ہم اچھے اعمال کریں ان کو فوراً خیال آئے گا کہ ایک قسم کے اچھے اعمال تو پہلے ہی ہم کیا کرتے تھے اسی کی تو سزامل رہی ہے تو وہ دعا میں وضاحت کریں گے کہ اے خدا ہم اچھے اعمال کریں گے یعنی وہ اعمال نہیں کریں گے جو ہم اس سے پہلے کیا کرتے تھے۔خدا فرماتا ہے۔اَوَلَمْ نُعَمِّرُكُمْ ہم نے کیا تمہیں لبی عمریں نہیں دیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کی توفیق کے مطابق اس دنیا میں مہلت دی جاتی ہے تب وہ پکڑا جاتا ہے اور کوئی شخص جس کو سزا ملنی مقدر ہے وہ اتنی عمرضرور پاتا ہے جتنی عمر میں اس کی بدیوں کی پختگی ثابت ہو جائے۔جس کے متعلق خدا تعالیٰ یہ حکم صادر فرما سکے کہ تجھے اتنی لمبی مہلت ملی تھی، اتنی اصلاح کے مواقع ملے تو اپنے بد حال پر قائم رہا راسخ رہا، مستحکم ہو گیا اس کے بعد اب تجھے یہ کہنے کا حق نہیں کہ مجھے لوٹا دے تاکہ میں نیک اعمال کروں۔پھر فرمایا کہ ایسی عمر نہیں ملی تھی کہ مَّايَتَذَكَّرُ فِيهِ مَنْ تَذَكَّرَ کہ جس کے نتیجہ میں وہ شخص جو نصیحت پکڑنا چاہے وہ نصیحت پکڑ سکتا تھا یعنی انسان کو اتنی مہلت ضرور ملتی ہے کہ اسے اگر اتنی ہوش ہو کہ نصیحت پکڑ سکے تو ضرور پکڑے گا وَجَاءَ كُمُ النَّذیر اور اس کے علاوہ تمہارے پاس ڈرانے والے بھی آئے فَذُوقُوا فَمَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ نَصِيرِ پس اب اپنے اعمال کا مزہ چکھو کیونکہ ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہیں۔سورہ ص میں ۷ اویں آیت ہے: وَقَالُوا رَ بَّنَا عَجِلُ لَنَا قِظَنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ یہ مرنے کے بعد کی نہیں بلکہ اس دنیا کی زندگی کی دعا ہے بعض ایسے لوگ تھے جو یہ دعا کیا کرتے تھے کہ رَبَّنَا عَجِلُ أَنَا قِطَنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ کہ اے خدا! ہمیں یوم حساب سے پہلے ہی جو کچھ چکھانا ہے یہاں چکھا دے۔اس دعا کے دو مطلب ہیں۔ایک تو یہ معنی ہو سکتا ہے کہ اے خدا! اس دنیا میں جو کچھ ہمیں دینا ہے دے دے ہمیں آخرت کی کوئی پرواہ نہیں۔یعنی ایک قسم کا تمسخر ہے جو وہ دعائیں کرتے ہیں وہ