خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 606
خطبات طاہر جلد ۱۰ 606 خطبہ جمعہ ۱۹ جولائی ۱۹۹۱ء احادیث اور ہم نے ان کو ماضی کے قصے بنا دیا وَمَزَقْنَهُمْ كُلَّ هُمَزَقٍ اور ہم نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ در گروہ بکھیر دیا اِنَّ فِي ذلِكَ لايت لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ ان باتوں میں ہر صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے تو دعا کی کہ اے خدا ہمارے فاصلے بڑھا دے لیکن اس پر اتنی خطرناک سزا کا کیا مطلب تھا کہ ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا، ان کو بکھیر دیا گیا ، ان سے برکتیں چھین لی گئیں اگر ایک انسان کھلی جگہ رہنا چاہے اور یہ پسند نہ کرے کہ شہر سے شہر ملے ہوں تو اس کے نتیجہ میں تو یہ سزا نہیں ملنی چاہئے۔عام طور پر قرآنی تراجم میں یہی لکھا ہوا ہے کہ انہوں نے یہ دعا کی تھی تا کہ ہمارے رہن سہن آسان ہو جا ئیں ہمارے شہر ایک دوسرے سے ہٹیں کچھ کھلی ہوا میں ہم بھی دم لیں۔شہر کی تنگیوں سے گھبرا گئے تھے اور یہ دعا کی حالانکہ یہ بات درست نہیں قرآن کریم نے اس دعا کے معاً بعد یہ فرما کر وَظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ اس کی بنیادی خرابی کا ذکر فرما دیا ہے۔وہ اس لئے ایک دوسرے سے دور نہیں ہونا چاہتے تھے کہ ان کو کھلی فضا میں سانس لینے کی خواہش تھی بلکہ اس لئے کہ ان کے دل ایک دوسرے سے دور ہو چکے تھے ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگے تھے اور وہ سوسائیٹی جس میں محبت نہ رہے اس میں تو انسان یہ بھی چاہتا ہے کہ میرا ہمسایہ بھی مجھ سے دور ہٹ جائے۔پس نفرتیں جب فاصلے بڑھانے کے مطالبے کریں تو یہ دعا ایسی ہے جس کے نتیجہ میں چین کی دوریاں نصیب نہیں ہوں گی بلکہ عذاب کی دوریاں نصیب ہوں گی۔بعض دوریاں ایسی ہیں جیسے کھلی فضا میں دیہات دیہات سے الگ ہوتے ہیں ایک گاؤں سے سفر کر کے دوسرے گاؤں میں جائیں بڑا خوشگوار ماحول نظر آتا ہے بڑی خوشگوار فضا ہوتی ہے سبز سبز لہکتے ہوئے کھیت ہیں یہ وہ منظر نہیں ہے۔جس کا تصور قرآن کریم پیش فرما رہا ہے۔فرماتا ہے وَظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ وہ بظاہر تو یہ دعا کرتے تھے لیکن حقیقت میں اپنی جانوں پر ظلم کر چکے تھے ایک دوسرے سے شدید نفرت کرنے لگے تھے ایک دوسرے کا قرب ان کو گوارا نہیں رہا تھا۔اس کے جواب میں اب دیکھیں خدا تعالیٰ نے جو سلوک فرمایا وہ بعینہ ان کے دل کی حالت کے مطابق ہے۔وہ پھٹے ہوئے تھے تو فرمایا اب ہم تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں۔جو دل کی اصل دعا ہے وہ قبول ہوئی ہے زبان کی دعا قبول نہیں ہوئی اور وہ قوم جو بظاہر ایک تھی ان کے چونکہ دل پھٹ چکے تھے اس لئے وہ مختلف فرقوں اور گروہوں میں