خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 334
خطبات طاہر جلد ۱۰ 334 خطبہ جمعہ ۱۹ سراپریل ۱۹۹۱ء درمیان ہے لیکن ما شاء اللہ ہوش و حواس خوب قائم ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کی باتیں یاد ان کا ابھی رمضان میں مجھے پیغام ملا ، اس پر مجھے یہ آیت یاد آئی۔میں نے کہا دیکھیں خدا نے کس طرح اپنے پیارے بندوں کی باتیں قرآن کریم میں محفوظ کر دی ہیں۔ان کی بھی جو پہلے گزر چکے تھے ان کی بھی جو بعد میں آنے والے تھے ،انہوں نے کہا کہ میرے لئے صرف یہ دعا کیا کریں کہ خدا مجھے اس حالت میں واپس بلائے جب مجھ سے راضی ہو چکا ہو۔پس وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ کی دعا صاحب عقل لوگوں کی دعا ہے ، وہ جانتے ہیں کہ برائیوں کا زندگی کا ساتھ ہوتا ہے بعض دفعہ گر بھی جائیں تو دوبارہ بھی آجاتی ہیں۔آخری فیصلہ اس وقت ہوگا جب انسان واپس جارہا ہوگا۔اس وقت اگر خدا کی رضا کی نگاہیں پڑ رہی ہوں۔اگر اس کے نزدیک اس وقت انسان نیکوں میں شمار ہو چکا ہو تو زندگی کا مقصد پورا ہو گیا اور پھر انسان یہ کہہ سکتا ہے کہ میں باطل میں نہیں ہوں۔ان لوگوں میں نہیں ہوں جو باطل میں شمار کئے جاتے ہیں۔پھر اس کے بعد بھی ایک دعا جاری ہے ابھی اپنی ذات کے لئے سب کچھ مانگا گیا مگر اس دین کے لئے ابھی کچھ نہیں مانگا جس دین کے نتیجے میں ان کی اصلاح کا سلسلہ شروع ہوا چنانچہ معلوم ہوتا ہے کہ موت کے تصور کے ساتھ ہی یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اے خدا! ہم نے یہ پیغام دوسروں کو بھی تو پہنچانا ہے اور تیرے جو وعدے ہمارے متعلق پہلے نبیوں سے کئے گئے ہیں کہ ہم دنیا میں اس طرح اصلاح احوال کریں گے اور لوگوں کے حالات میں پاک تبدیلیاں پیدا کریں گے۔وہ وعدے اگر پورے نہ ہوئے تو قیامت کے دن پھر بھی ہمارے لئے شرمندگی ہے یعنی ایک انسان اپنی ذات میں اگر نیک بھی بن چکا ہو اور اس کا بظاہر نیک انجام بھی ہو، وہ اگر دوسرے بنی نوع انسان کے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا تو وہ اپنے آپ کو کامیاب نہیں سمجھتا۔یہ لِأُولى الألْبَابِ کی تعریف کی جارہی ہے۔چنانچہ یہ دعا بھی ساتھ بتادی کہ رَبَّنَا وَ اتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ اے خدا! وہ سارے وعدے ہمارے حق میں پورے فرمادے جو تو نے پہلے رسولوں کو دیئے تھے کہ ہم آنیوالوں کے ساتھ یہ یہ سلوک فرمائیں گے۔اب یہ کیا مطلب ہے کہ وَعَدْتَنَا عَلی رُسُلك دراصل یہاں یہ بات کھل گئی کہ یہ ساری دعا جو لِأُولى الالباب کی دعا ہے یہ محمد مصطفی ﷺ کے غلاموں کی دعا ہے اور یہ جو باتیں ہورہی ہیں یہ محمد رسول اللہ اللہ کے غلاموں کی ہی باتیں ہورہی ہیں کیونکہ یہ آپ کی ہی ایک