خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 333 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 333

خطبات طاہر جلد ۱۰ 333 خطبہ جمعہ ۱۹ سراپریل ۱۹۹۱ء اور یہ سمجھ لینا کہ فرض ادا ہو گیا ہرگز کافی نہیں کیونکہ بہت سے ایسے ایمان لانے والے ہوں گے جو سچے دل سے تو بہ بھی کر چکے ہوں گے لیکن اپنی بہت سی بدیاں ساتھ لے کر آئیں گے جن سے چھٹکارا پانا ان کے بس میں نہیں۔اگر ان کی طرف توجہ نہ کی گئی ، اگر تبلیغ کرنے والا ان سے مستقل تعلق رکھ کے ان کی برائیاں دور کرنے میں ان کی مدد نہیں کرتا تو ایسے ہی ہوگا جیسے بعض بچے وبائی امراض کا شکار ہوتے ہیں اور مائیں ان کو جگہ جگہ لئے پھرتی ہیں، اتنا نہیں سوچتیں کہ مجالس میں لے کے جائیں گی تو اور بھی بیماریاں پھیلائیں گی ، کئی مائیں میرے پاس بھی لے آتی ہیں جب میں پیار کر چکتا ہوں تو بتاتی ہیں کہ اس کو تو فلاں وبائی بیماری ہے۔اللہ تعالیٰ حفاظت فرماتا ہے وہ الگ بات ہے لیکن جو مضمون ہے اس کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہئے۔قرآن کریم نے ہمیں بتایا کہ لِأُولِي الْأَلْبَابِ اقرار کرتے ہیں کہ محض ایمان لانے کے نتیجے میں ہم پاک وصاف نہیں ہو گئے ، ہمارے گناہ بخشے بھی جاچکے ہوں تب بھی ہمارے اندر برائیاں موجود رہیں گی اور تیری مدد کے سوا وہ برائیاں دور نہیں ہوسکتیں۔پس مومنوں کو نو مبایعین کی فکر کرنی چاہئے اور ان کے ساتھ لگ کر ان کی کمزوریاں دور کرنے میں ان کی مدد کرنی چاہئے ورنہ اسی طرح کھلے چھوڑ دیئے گئے تو باقی جماعت میں بھی وہ اپنی بیماریاں پھیلاتے رہیں گے۔دعا کا اگلا حصہ اسے مکمل کر دیتا ہے پھر وہ عرض کرتے ہیں وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ اگر ہماری دعا قبول ہو گئی تو اب برائیاں تو تو دور کر دے گا لیکن پتا نہیں کتنا وقت لگتا ہے۔بعض بیماریاں عمر کا ساتھ دیئے ہوئے ہوتی ہیں، لمبے عرصے سے چھٹی ہوئی ہوتی ہیں اور پتا نہیں کتنی عمر باقی ہے۔اتنے عرصے میں وہ مٹ بھی سکیں گی کہ نہیں۔موت کا کوئی وقت معین نہیں۔تو دیکھیں لِأُولى الْأَلْبَابِ نے کیسی عقل والی دعا کی وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ اے خدا ! مارنا نہ جب تک نیکوں میں شمار نہ ہو چکے ہوں۔تیری مرضی ہے جلد صحت دے یا دیر سے صحت دے۔مقصد یہ ہے کہ جب تک صحت نہ پاچکے ہوں ہمیں واپس نہ بلانا۔آخری سانس اس حالت میں لے رہے ہوں کہ تو کہ رہا ہو کہ تم ابرار میں داخل ہو گئے ہو کیسی پیاری دعا ہے اور لِأُولِي الْأَلْبَابِ واقعی ایسی دعائیں کیا کرتے ہیں اور ایسی دعاؤں کی درخواستیں بھی کیا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی لاہور میں ایک صحابیہ ہیں جو یہاں ہماری جماعت کی بڑی مخلص رکن آمنہ صدیقہ کی والدہ ہیں بہت بڑی عمر ہو چکی ہے۔غالباً 90 اور 100 کے