خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 335
خطبات طاہر جلد ۱۰ 335 خطبہ جمعہ ۱۹ سراپریل ۱۹۹۱ء امت ہے۔جس کے متعلق گزشتہ تمام انبیاء نے خوشخبریاں دی تھیں کہاللہ تعالیٰ انہیں تمام دنیا میں ہر دوسرے دین پر غالب فرمائے گا۔تو وہ عرض کرتے ہیں کہ: ربنا واتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ تو نے گزشتہ تمام ابنیاء کے ہاتھوں ہمیں جو خو شخبریاں بھیجی تھیں اور وعدے کئے تھے کہ میں امت محمدیہ سے یہ یہ سلوک کروں گا وہ ہمارے حق میں پورے فرما دے۔وَلَا تُخْرِ نَا يَوْمَ الْقِيِّمَةِ قِیامت کے دن ہمیں ذلیل ورسوا نہ ہونے دینا کہ وہ وعدے جو ہمارے ساتھ وابستہ تھے وہ پورے نہیں ہوئے۔اب اگر وعدے پورے نہیں ہوئے تو بظاہر یہ خیال جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدے پورے نہیں کئے حالانکہ خدا تو وعدے پورا کرتا ہے۔پس اس دعا کا آخری حصہ یہ ہے کہ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ ( آل عمران : ۱۹۵) جہاں تک وعدوں کا تعلق ہے۔تو یقیناً وعدہ خلافی کر نیوالوں میں سے نہیں ، تو لازماً اپنے وعدے پورے کرتا ہے۔پس جب ہم یہ التجا کرتے ہیں کہ یہ وعدے ہمارے حق میں پورے فرما تو مطلب ہے کہ ہمیں ان وعدوں کا مستحق بنا دے کیونکہ اگر ہم مستحق نہ رہے تو پھر یہ وعدے پورے نہیں ہوں گے لیکن قصور تیرا نہیں ہوگا، قصور ہمارا ہوگا۔تو اس طرح قرآن کریم ان لوگوں کی راہوں کو ہم پر آسان بنادیتا ہے جن کی راہیں ان کی دعاؤں کے نتیجے میں ان پر آسان بنائی گئیں اور ہمیں نصیحت فرماتا ہے کہ اس طرح یہ دعائیں کرتے کرتے اس سفر میں آگے بڑھو۔پھر اللہ تعالیٰ کمزور عورتوں ، مردوں اور بچوں کی دعا کو بھی قرآن میں محفوظ فرماتا ہے۔ایسی عجیب کتاب ہے کہ زندگی کا کوئی پہلو خالی نہیں چھوڑتی۔مختلف حالتوں کی دعائیں اس میں محفوظ ہیں۔اگر آپ غور سے ان کا مطالعہ کریں تو زندگی کے ہر امکان پر یہ دعائیں حاوی ہیں اور زندگی کے ہر احتمال پر بھی یہ دعا ئیں حاوی ہیں۔چنانچہ فرمایا کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں ، عورتوں اور بچوں کی راہ میں جنگ نہیں کرتے ہو جو یہ کہتے ہیں۔( یہ آیت کے پہلے حصے کا ترجمہ ہے ) کہ ان لوگوں کی خاطر تم کیوں جہاد نہیں کر رہے جو مظلوم ہیں اور جو مشکلات میں پھنسے ہوئے ہیں اور یہ دعائیں کر رہے ہیں کہ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا کہ اے اللہ ! ہمیں اس بستی سے نجات بخش جس بستی کے رہنے والے ظالم ہوچکے ہیں وَاجْعَلْ لَنَا مِن لَّدُنْكَ وَلِيًّا ہمارے لئے اپنی جناب سے کوئی دوست بنا کر بھیج دے