خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 329 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 329

خطبات طاہر جلد ۱۰ 329 خطبہ جمعہ ۱۹ را پریل ۱۹۹۱ء یہ اہلیت رکھتا ہے کہ جو بات کہتا ہے وہی کرتا ہے۔جس نیکی کی تعلیم دیتا ہے اس پر عمل پیرا ہے، ہمارا گواہ بن جا کہ ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں اور پھر خدا سے عرض کی کہ اے خدا!! ہمیں بھی گواہوں میں لکھ لے۔ہم تیرے حضور اس قابل بنیں کہ لوگوں کو نہ صرف نیکی کی تعلیم دیں بلکہ اس تعلیم پر خود عمل کرنے والے ہوں یہاں تک کہ تیرے نزدیک ہم شاہدین میں لکھے جائیں۔بہت بڑا مرتبہ ہے جو طلب کیا گیا ہے یعنی تیرے حضور انبیاء کے ان ساتھیوں میں لکھے جائیں جن کو قوموں کی نگرانی پر مامور کیا جاتا ہے۔پس نیک اعمال کی اور اخلاص کی دعا اس دعا کے اندر شامل ہوگئی اور بہت ہی جامع و مانع دعا ہے۔پھر بہت سے انبیاء کی دعا قرآن کریم نے یوں بیان فرمائی کہ مختلف انبیاء مختلف مصائب میں مبتلا ہوکر یہ دعا کیا کرتے تھے جن کا ذکر یوں فرمایا: و گايْنَ مِّنْ نَّبِيَّ قَتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرُ فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا وَاللهُ يُحِبُّ الصُّبِرِينَ (آل عمران: ۱۴۷) وَكَأَيِّنْ مِّنْ نَّبِي قُتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرُ آگے دعا شروع ہوگی۔وَكَأَيِّنْ مِنْ نَّبِي کتنے ہی خدا کے نبی ایسے ہیں۔قَتَلَ مَعَهُ رَبِّيُّونَ كَثِيرٌ جن کے ساتھ بہت سے خدا والوں نے مل کر جہاد کیا فَمَا وَ هَنُوا وہ کمزور نہیں پڑے لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِیلِ اللهِ۔اس وجہ سے کہ ان کو اس راہ میں یعنی اللہ کی راہ میں مصیبتیں پڑیں۔وَمَا ضَعُفُوا اور یہ بھی کمزوری کے اظہار کا ایک مزید لفظ ہے۔ضَعُفُوا کمزور پڑ جانا۔بوڑھے ہو جانا تھک جانا وهَا اسْتَكَانُوا اور ایسے حال میں نہیں پہنچے کہ وہ ذلیل اور رسوا ہو چکے ہوں اور ہمت ہار بیٹھے ہوں۔تو با وجود شدید مشکلات کے لمبی مشکلوں کی راہ پر چلنے کے ان میں کوئی کمزوری نہیں آئی کوئی بیزاری پیدا نہیں ہوئی کوئی تھکن پیدا نہیں ہوئی اور مشکلات نے اعصاب کو مضمحل نہیں کر دیا اور دنیا کی نظر میں ان لوگوں میں وہ شمار نہیں ہوئے جو تھک ہار کر ذلیل ہوکر بیٹھ جاتے ہیں۔یہ کیسے ہوا؟ اس لئے ہوا کہ وہ ایک دعا کیا کرتے تھے وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا اس کے سوا ان کی دعا اور کچھ نہ تھی کہ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش دے۔وَ اِسْرَافَنَا فِی اَمْرِنَا اور اپنے نفس پر ہم جو زیا دتیاں کرتے رہتے ہیں ان