خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 328 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 328

خطبات طاہر جلد ۱۰ 328 خطبه جمعه ۱۹ / اپریل ۱۹۹۱ء نے آپ کو مامور فرمایا اور بہت ہی مشکل کام تھا جو آپ کے سپر د ہوا یہاں تک کہ آپ نے محسوس کیا کہ ساری قوم انکار کر بیٹھے گی اور آپ کو رد کر دیا جائے گا تو اس وقت کیا ہوا۔فرمایا: فَلَمَّا أَحَش عیسی مِنْهُمُ الْكُفْرَ (آل عمران : ۵۳) کہ جب عیسی علیہ السلام نے اپنی قوم سے کفر کو محسوس کیا تب کہا: قَالَ مَنْ أَنْصَارِی اِلَى اللهِ تو انہوں نے یہ دردناک صدا بلند کی مَنْ أَنْصَارِی إِلَى اللهِ کون ہے جو خدا کی راہ میں میری مدد کے لئے آگے آئے۔اس وقت وہ چند حواری جو آپ پر ایمان لائے تھےانہوں نے کہا: قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ کہ ہم تیری مدد کے لئے خدا کی خاطر تیار ہیں۔آمَنَّا بِاللہ ہم اللہ پر ایمان لے آئے۔وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ اور اے عیسی ! تو گواہ بن جا کہ ہم اسلام لانے والوں میں سے ہیں۔تب انہوں نے یہ دعا کی: رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّهِدِينَ ( آل عمران :۵۴) کہ اے ہمارے رب ! ہم جو تو نے اتارا ہے اس پر ایمان لے آئے ہیں واتَّبَعْنَا الرَّسُول اور ہم نے اس رسول کی پیروی شروع کر دی ہے جس رسول کو تو نے بھیجا تھا۔فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّهِدِین تو ہمیں بھی شاہدوں میں لکھ لے۔اس دعا کی حکمت کو سمجھنا چاہئے۔اس کے دو حصے ہیں پہلے حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام سے مومن مخاطب ہوتے ہیں اور یہ عرض کرتے ہیں کہ آپ ہم پر گواہ بن جائیں اور اس کے بعد خدا سے مخاطب ہوتے ہیں اور یہ عرض کرتے ہیں کہ آپ ہم پر گواہ بن جائیں اور اس کے بعد خدا سے مخاطب ہوتے ہوئے یہ عرض کرتے ہیں کہ تو ہمیں گواہوں میں شمار کر لے۔یہ نہیں کہا کہ تو ہمارا گواہ بن جا عرض کرتے ہیں فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّهِدِینَ کہ تو ہمیں بھی شاہدوں میں لکھ لے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح انبیاء پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں اور خدا پر ایمان لانے والوں کی نگرانی کریں اور ان کے اعمال کا ہمیشہ باریک نظر سے جائزہ لیتے رہیں کیونکہ قیامت کے دن ان کو ان لوگوں پر گواہ بنایا جائے گا اور گواہ بننے کے لئے جو شرائط ہیں وہ ان میں پائی جاتی ہیں۔یعنی اس معاملے میں گواہ بننے کے لئے ضروری شرط یہ ہے کہ جس نیکی کی وہ تعلیم دیتے ہیں اس نیکی پر عمل بھی کرتے ہیں۔اگر انبیاء میں یہ بنیادی شرط نہ پائی جاتی تو وہ ہرگز قوموں پر گواہ نہیں بنائے جاسکتے تھے۔پس نیکی کا گواہ بننے کے لئے ضروری ہے کہ انسان خود نیک ہو۔پس حواریوں نے دیکھئے کیسی پر حکمت دعا کی ہے۔پہلے حضرت عیسی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کہا کہ تو ہمار گواہ بن جا کیونکہ توہی