خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 330 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 330

خطبات طاہر جلد ۱۰ 330 خطبہ جمعہ ۱۹ راپریل ۱۹۹۱ء سے صرف نظر فرما۔وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا اور ہمارے اقدام میں استحکام بخش اور ہمیں متزلزل نہ ہونے دے۔وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ (آل عمران: ۱۴۸) اور ہمیں کافروں کی قوم نصرت عطا فرما۔پر پس یہ جو دعائیں بتائی گئیں کہ یہ دعا ئیں کیا کرتے تھے ان دعاؤں کو اس مضمون پر چسپاں کر کے دیکھیں جو پہلے گزر گیا کہ ان میں یہ بات بھی پیدا نہیں ہوئی ، یہ بات بھی پیدا نہیں ہوئی، یہ بات بھی پیدا نہیں ہوئی ، یہ بات بھی پیدا نہیں ہوئی تو در حقیقت ان سب باتوں کا جواب اس دعا میں ہے۔اس دعا کے جتنے ٹکڑے ہیں ان کا ان باتوں سے تعلق ہے جن باتوں سے وہ بچے رہے اور جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نجات بخشی اور وہ اس دعا ہی کا نتیجہ تھا۔پس اگر آج بھی مومن اس راہ کو طلب کر رہے ہیں تو اس راہ کی صفات کو اختیار کرنا پڑے گا اور دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے ثبات قدم کی التجائیں کرنی ہوں گی۔پھر قرآن کریم میں لِأُولِي الْأَلْبَابِ کی دعا بتائی گئی ہے یعنی عقل والوں کی دعا۔جن کا دماغ روشن ہوتا ہے جن کا نور بصیرت تیز ہوتا ہے۔فرمایا: اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَا يَةٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ ( آل عمران : ۱۹۱) دیکھو! آسمان اور زمین کی پیدائش میں رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں یقیناً لأولى الْأَلْبَابِ کے لئے صاحب عقل لوگوں کے لئے نشانات ہیں۔صاحب عقل لوگ کیا کرتے ہیں ؟ صاحب عقل وہ لوگ ہیں۔الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا جو اللہ کو کھڑے ہو کر بھی ، بیٹھ کر بھی یاد کرتے ہیں۔وَعَلَى جُنُو بِھم اور رات کو لیٹے ہوئے یا دن کو لیے ہوئے بھی۔وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ اور ہمیشہ زمین و آسمان کی پیدائش پر فکر کرتے رہتے ہیں اور غور کرتے رہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے یہ کیا پیدا کیا؟ اس میں کیا حکمتیں ہیں؟ اس کی تخلیق میں کیا لطائف پوشیدہ ہیں؟ یہ غور کرنے کے بعد ان کے دل سے بے ساختہ یہ دعا نکلتی ہے رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کہ اے ہمارے رب ! جو کچھ بھی تو نے پیدا کیا ہے حکمتوں سے بھرا ہوا ہے باطل نہیں ہے۔بے مقصد نہیں ہے کیونکہ اتنا اعلیٰ انتظام جو ایسا مربوط ہو اور ایسا گہری حکمتوں پر مبنی ہو وہ عبث نہیں ہو سکتا ، بے کار نہیں بنایا جا سکتا ضرور