خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 159
خطبات طاہر جلد ۱۰ 159 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء یہ عجیب یادداشت ہے کہ فرضی مظالم کی یادیں تو 1400 سال سے زندہ رکھے ہوئے ہیں اور حقیقی احسانات کی یادوں کو بھولتے چلے جارہے ہیں۔یہ عجیب قوم ہے کہ یہ بات بھول گئے ہیں کہ جب ازابیلا اور فرڈینینڈ نے 1490ء میں یہودیوں کے پین سے انخلاء کا حکم دیا تو اس سے پہلے تقریباً 200 سال مسلسل سپین میں یہودیوں پر ظلم ہوتے رہے لیکن وہ ایسے ظلم تھے کہ ان کے نتیجے میں یہود نے پھر بھی وہاں سے نکلنے کا فیصلہ نہیں کیا۔بالآخر جبراً ان کو عیسائی بنایا گیا اور جب بڑی تعداد میں یہودی عیسائی بن گئے تو پھر یہ تحریک شروع کی کہ یہ جھوٹے عیسائی ہیں دھوکہ دینے کے لئے عیسائی بنے ہیں۔ابھی بھی بہت امیر ہو گئے ہیں اس لئے ان کی دولت چھیننے کے لئے کوئی بہانہ تلاش کرو۔چنانچہ ازابیلا کو اور فرڈینینڈ کو اس وقت کے عیسائی پادریوں نے بار بار یہ تحریص کی اور لالچ دلائی کہ اس قوم کا ایک ہی علاج ہے کہ ان کی عیسائیت پر اعتماد نہ کیا جائے اور ہمیں Inquisition اجازت دی جائے Inquisition سے مراد ہے : وہ ٹارچر کرنے کے ذرائع جو عیسائی دنیا اپنے مخالفوں کے خلاف استعمال کرتی تھی اور ان ذرائع سے نہایت ہی درد ناک مظالم غیر عیسائیوں پر کئے جاتے تھے اور ان عیسائیوں پر کئے جاتے تھے جن کے دین پرشک ہو۔چنانچہ ایک لمبے عرصے تک یہ بحث جاری رہی۔اذا بیلا چونکہ یورپ سے ناراض تھی SixusIV تھا غالبا اس وقت ،اس سے کسی وجہ سے ناراض تھی۔وہ اس کی مرضی کے کارڈینل مقرر نہیں کرتا تھا۔اس لئے اس نے اجازت نہیں دی کی پوپ کی مقرر کردہ کوئی کمیٹی Inquisition کے کام چین میں کرے۔بالآ خر فر ڈنیڈ کو عیسائی پادریوں نے یہ لالچ دی کہ اگر تم اس کی اجازت دے دو تو یہود کے جتنے اموال چھینے جائیں گے یہ ہم تمہارے قبضے میں دیں گے۔ہمیں صرف ظلموں کی اجازت دو، اموال تمہارے۔چنانچہ 1980ء سے Inquisition شروع ہوئی۔Inquisition کی تاریخ حقیقتاً اتنی دردناک ہے کہ شاید ہی کبھی انسانی تاریخ میں ایسے دردناک مظالم کی مثال آپ کو نظر آتی ہو جیسے اس زمانے میں یہودیوں پر عیسائیوں کی طرف سے کئے گئے۔اس کے باوجود دل نہیں بھرا تو 1492ء میں ان کے انخلاء کا حکم جاری کر دیا گیا۔۔آپ کو یاد ہوگا کہ Black Death جو 1347ء سے 1352ء تک یورپ میں ہلاکت خیزی کرتی رہی۔Black Death یعنی طاعون کا وہ حملہ یورپ میں 1347ء