خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 158 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 158

خطبات طاہر جلد ۱۰ 158 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء ایک ہی بات بالآخر سمجھ آتی ہے کہ مغربی دنیا در حقیقت اسلام سے گہری دشمنی رکھتی ہے۔اور اس دشمنی کے پس منظر میں جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا تاریخی رقابتیں بھی ہیں اور اس دشمنی کی وجہ ایک وہ خوف بھی ہے جو جاہل ملاں اسلام کے متعلق مغربی دنیا اور دوسری دنیا کے دلوں میں پیدا کرتا ہے۔اپنی جہالت سے اسلام کا ایک ایسا تصور پیش کرتا ہے جس سے دنیا خوف کھاتی ہے کہ یہ لوگ اگر طاقت پائیں گے تو ہم پر جبر و تشدد کریں گے۔اس مسئلے کے متعلق بعد میں جب میں مسلمانوں کو مشورہ دوں گا تو پھر اس ذکر کو چھیڑوں گا۔یہ میں آپ کو بتادینا چاہتا ہوں کہ اسرائیل کو مسلمانوں کے پیچھے ڈال کر اگر ان کا یہ خیال ہے کہ مسلمانوں کی مدافعانہ طاقت کو توڑ دیں گے یا اس طرح اسرائیل ان مظالم کو بھول جائے گا جو مغرب نے اسرائیل پر کئے ہوئے ہیں یا ان مظالم کا بدلہ مسلمانوں سے لیتا رہے گا تو یہ ان کی سب سے بڑی حماقت ہے۔اسرائیل کے انتقام کی یادداشت بہت قوی ہے اور نہ مٹنے والی ہے اور اسرائیل کے احسان کی یاد داشت اس طرح ہے جس طرح پانی پر تحریر لکھی گئی ہو۔آپ کو اگر اسلامی تاریخ سے واقفیت ہو تو آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ 800 سال تک سپین پر مسلمانوں نے جو حکومت کی ہے اس تاریخ میں ایک واقعہ بھی کسی یہودی پر ظلم کا آپ کو دکھائی نہیں دے گا۔مسلمانوں کی طاقت کے ادوار میں جب بھی آپ جس دور پر بھی نظر ڈالیں ، ایک دوسرے پر ظلم تو آپ کو دکھائی دے گا اور وہ بھی اس وقت جب ملاں ایک فرقے کے ماننے والوں کو دوسرے فرقوں کے ماننے والوں کے خلاف بھڑکا تا رہالیکن یہودیوں اور عیسائیوں کے خلاف اسلام کی تاریخ میں آپ کو کوئی مظالم دکھائی نہیں دیں گے۔تین ایسے قبائل ہیں جن کا تاریخ اسلام کے آغاز سے تعلق ہے۔جنہوں نے بار بار معاہدہ شکنی کی اور آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں سے دھو کے کئے۔ان کے خلاف جنگ کے دوران حملہ آوروں سے ملتے رہے ، ان تین قبائل کے خلاف بالآخر مسلمانوں کو کارروائی کرنی پڑی۔وہ قبائل ہیں بنو قینقاع، بنو نضیر، بنوقریظہ۔جب 1947ء میں یونائیٹڈ نیشنز میں اسرائیل کے قیام پر بحث ہورہی تھی تو وہاں اسرائیلیوں نے مسلمانوں کو طعن دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا حق ہے اور تمہیں تو ہمیں اپنے گھروں سے نکالنے کی عادت ہے۔ہم آج تک نہیں بھولے جو تم نے بنو قریظہ اور بنونضیر اور بنو قینقاع سے کیا تھا ، تو