خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 160
خطبات طاہر جلد ۱۰ 160 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء سے 1352 ء تک بکثرت انسانی جانوں کی ہلاکت کا موجب بنا۔Black Death کے زمانے میں یورپ میں پہلے ہی یہود پر مظالم کئے جارہے تھے اور فرانس میں سب سے زیادہ مظالم کئے گئے۔چنانچہ وہاں کے مظالم کا تصور کریں کہ وہاں سے بھاگ کر انہوں نے پہلے فرانس میں اور پھر یورپ کے دیگر ممالک میں پناہ لینے کی کوشش کی لیکن وہاں بھی ان کو پناہ نہیں ملی اور ان پر مظالم جاری رہے۔پناہ اگر ملی تو فلسطین کی اسلامی حکومت نے دی ہے۔یہ ایک تاریخی واقعہ ہے اور دوبارہ بھی Natsi مظالم کے زمانے میں پھر یہ فلسطین پناہ لینے گئے ہیں۔پس ساری اسلامی تاریخ میں ان کے ساتھ احسان پر احسان کا سلوک کیا جاتا رہا۔ان کے علم وفضل نے مسلمانوں کی گودوں میں پرورش پائی ہے اور ظلم ہوئے ہیں یورپینز کی طرف سے اور مغربی عیسائی قوموں کی طرف سے اور ان کا بدلہ یہ مسلمانوں سے لے رہے ہیں۔یہ تصور ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ذہن میں ہے کہ اس سے بہتر اور کیا سودا ہوگا۔یہودیوں کو مسلمانوں کے گلے ڈال دو اور ہمارے ظلموں کا انتقام مسلمانوں سے لیں۔ایک ہی تیر سے دونوں مارے جائیں اس سے زیادہ اور کیا حکمت عملی کی پالیسی ہوسکتی ہے۔لیکن وہ یہ بات بھول رہے ہیں کہ یہودی ظلم بھولنے والی قوم نہیں ہے۔ان کی سرشت کے خلاف ہے یہ ناممکن ہے کہ مغرب سے یہ اپنے مظالم کا بدلہ نہ لیں۔وقت کی بات ہے آج یہ مسلمانوں کا خون چوس کر طاقت حاصل کریں گے اور یہ طاقت ابھی اتنی بڑھ چکی ہے اور ایسی خوفناک ہو چکی ہے کہ ان کے جرنیل کھلم کھلا کہہ رہے ہیں کہ ہم تو سوویٹ یونین سے ٹکر لیکر اس کو بھی شکست دینے کی طاقت رکھتے ہیں جو ٹیکنیکل Know How جنگی ہتھیار بنانے کا ہے اس میں بہت سی شاخوں میں یہ امریکہ سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔ایٹم بم بنا چکے ہیں دوسرے مہلک ہتھیار بنا چکے ہیں یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے۔کیوں یہ طاقت بڑھتی چلی جارہی ہے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی بڑی ہی جہالت ہوگی اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان کے حملوں سے ڈر کر یہ ویسا کر رہے ہیں بہت بڑی بے وقوفی ہے مسلمان حملوں سے ڈرنا کیا ، جب بھی مسلمان بے چاروں نے ٹکر لی ہے ان کی طاقت کو تہس نہس کر دیا ہے اور ہر حملہ آور کو ایسی ظالمانہ شکست دی ہے کہ اس سے سارے عالم اسلام کی گردن شرم سے جھک جاتی رہی ہے۔ان کو مسلمانوں سے کیا خوف ہے؟ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ دنیا کی فتح کے منصوبے ہیں پہلے تیل کی طاقت پر قبضہ کیا جائے گا۔ہر قدم کے بعد جب اس قدم کی یادداشت پھیکی پڑ جائے