خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 157
خطبات طاہر جلد ۱۰ 157 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء شاید فرضی ہوگا۔U۔P کے بڑے بڑے بہادر لوگ ہیں، جیالے ہیں ، بڑے بڑے مقابلے انہوں نے دشمنوں سے کئے ہیں مگر یہ لطیفہ United Nations کے حق میں ضرور صادق آتا ہے۔ہر دفعہ اسرائیل مار پر مار دیتا چلا گیا ہے اور کھلم کھلا بغاوت کے رنگ میں کہتا رہا ہے تمہارے ریزولیوشنز کی حیثیت کیا ہے۔ردی کا کاغذ ہے میں پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دوں گا۔میں پاؤں تلے روندھ دوں گا اور ہر دفعہ United Nations کہتی ہے اب کی مار۔اب اگر تم نے ایسا کیا تو ہم بہت ہی برا منائیں گے۔اب سوال یہ ہے کہ کیوں یہ پاگل پن ہو رہا ہے۔کوئی حد ہوتی ہے۔یہ نا قابل فہم باتیں ہیں۔یقین نہیں آسکتا کہ دنیا میں یہ کچھ ہوسکتا ہے لیکن ہورہا ہے۔اس United Nations کا فائدہ کیا ہے؟ میں تو یہ سوچتا ہوں اور عرب اور مسلمان ممالک کو اگر وہ ہوشمند ہیں اور باقی دنیا کو بھی یہ سوچنا چاہئے کہ اس United Nations کا کیا فائدہ ہے جو عملاً صرف ان بڑی قوموں کے مفاد میں فیصلے کرتی ہے جو بڑی قو میں یونائیٹڈ نیشنز پر قابض ہو چکی ہیں اور یونائیٹڈ نیشنز کا دستور جن کو یہ طاقت دیتا ہے کہ جب چاہیں کسی کے خلاف ظلم کریں اور ساری دنیا کی قوموں کو یہ طاقت نہ ہو کہ اس ظلم کے خلاف آواز ہی بلند کر سکیں۔اگر وہ آواز بلند کرنے کی کوشش کریں تو اس کو ویٹو کر دیا جائے اور اپنے کسی چیلے سے جس طرح چاہیں کسی پر ظلم کروائیں کسی دنیا کی طاقت نہ ہو کہ وہ اس کے خلاف آواز بلند کرے اور کلیۂ دنیا کی تقدیر ان کے ہاتھ میں ہو۔یونائیٹڈ نیشنز کی یہ کیفیت ہے۔جب عربوں کے خلاف یا مسلمانوں کے خلاف فیصلے کرنے ہوں تو انتہائی ظالمانہ فیصلے کئے جائیں اور جب ان کے حق کی بات ہو تو سوائے چند آوازیں نکالنے کے اس کی اور کوئی بھی حیثیت نہیں۔بچپن میں مجھے مرغیاں پالنے کا شوق تھا میں نے دیکھا ہے کہ بعض مرغیاں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ بیٹھیں پالنے والے کے صحن میں کرتی ہیں اور انڈے دوسرے کے صحن میں جا کر دیتی ہیں۔پس United Nations کی مرغی تو ویسی ایک مرغی ہے۔بیٹھیں کرنے کے لئے عربوں اور مسلمانوں کے صحن رہ گئے ہیں اور انڈے دینے کے لئے اسرائیل اور مغرب کے صحن ہیں۔پس اگر یہی یونائیٹڈ نیشنز کا تصور ہے اور یہی اس کے مقاصد ہیں تو دنیا کو سوچنا چاہئے۔چنانچہ اس بارہ میں میں بعد میں انشاء اللہ جب دنیا کو عمومی مشورے دوں گا تو ان کو ایک مشورہ اس سلسلے میں بھی دوں گا۔