خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 353
خطبات طاہر جلد اول 353 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۸۲ء مصطفی ﷺ نے آپ کو حسن خلق اور حسن سیرت خود سکھایا ہے۔میں یہ مثالیں اس لیے نہیں دے رہا کہ آپ ان کی پیروی کریں۔میں تو حضرت محمد مصطفی ﷺ کی سنت کی طرف آپ کو توجہ دلاتا ہوں۔اور آپ کو بتا یہ رہا ہوں کہ وہ سنت ایسی پیاری سنت ہے کہ جب غیر بھی اس کی پیروی کرتے ہیں تو ایک حسن پا جاتے ہیں تو اپنوں کو تو زیادہ توجہ اور زیادہ خلوص کے ساتھ اس سنت کی پیروی کرنی چاہئے۔اس لیے اس پہلو سے بیدار مغزی کے ساتھ ہر نا واقف سے رابطہ پیدا کریں جس کے متعلق آپ کو یہ خیال ہے کہ بے مقصد پھر رہا ہے۔اس کا خیال رکھیں اور اگر اس کی کوئی ضرورت ہے تو وہ پوری ہونی چاہئے۔اسی طرح اگر کوئی قابل فکر بات سامنے آئے تو متعلقہ افسران کے پاس وہ بات پہنچانی چاہئے لیکن قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔پس ایک یہ پہلو ہے جس میں ہم سب مل کر مہمان بھی اور میزبان بھی خدمت کر سکتے ہیں۔اسی ضمن میں میں ایک اور بات بیان کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ بعض مہمان اپنی سادگی میں ٹوٹے جاتے ہیں۔حالانکہ مومن کو اس قسم کی سادگی زیب نہیں دیتی۔مہمان نوازی کے انتظام کے ساتھ منسلک رہنے کی وجہ سے مجھے تجربہ ہے۔میرے سامنے کئی ایسی باتیں آئیں جن کی وجہ سے بڑی تکلیف پہنچی کہ بعض احمدی مہمانوں نے اپنی سادگی میں بڑا بڑا نقصان اٹھایا ہے۔ایک بیچارہ احمدی تقریریں ریکارڈ کرنے کے لیے ٹیپ ریکارڈر لے کر آیا ہوا تھا۔وہ ٹیپ سن رہا تھا۔ایک آدمی دوڑا دوڑا آیا اور اس سے کہا کہ آپ کے فلاں دوست جو آپ کے ساتھ فلاں جگہ باتیں کر رہے تھے وہ کہتے ہیں کہ ذرا تھوڑی دیر کے لیے ٹیپ ریکارڈر دے دیں۔اس نے اسی وقت پکڑا دیا۔حالانکہ وہ آدمی نہ دیکھا نہ جانا۔ٹیپ ریکارڈر لے کر غائب ہو گیا۔وہ جب اپنے دوست سے ملا تو اس نے کہا۔تم نے تھوڑی دیر کے لیے ٹیپ ریکارڈر مانگا تھا واپس تو کرو۔اس نے کہا کیسا ٹیپ ریکارڈر۔مجھے تو پتہ ہی کچھ نہیں۔بعد میں پتہ چلا کہ اسی قسم کے واقعات اور جگہ بھی ہوئے۔تو بہت سے مہمانوں کا سادگی میں نقصان ہو گیا۔ایک آدمی ایک قیام گاہ میں آیا کہ فلاں مہمان صاحب ہیں ان کی بس جارہی ہے اور وہ اپنا بستر اور سامان چھوڑ گئے ہیں۔وہ فوری طور پر دے دیں۔وہ خود آنہیں سکتے میں لینے آگیا ہوں۔اس وقت جو سارے میزبان یا مہمان بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔اسی وقت بستر وغیرہ اٹھوا دیئے اور وہ اور صاحب تھے جو سامان اٹھا کر بھاگ گئے۔اس لیے ان معنوں