خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 354 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 354

خطبات طاہر جلد اول 354 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۸۲ء میں بھی بیدار مغزی کی ضرورت ہے۔اپنے سامان کی حفاظت خود کریں۔اتنے بڑے انتظامات میں انتظامیہ پر پورا پورا انحصار کرنا کہ وہ اس قابل ہو گئی ہے کہ آپ کی ہر طرح مدد کر سکے یہ تصور ہی غلط ہے۔آپ خود اپنا جو نقصان کریں گے اس میں انتظامیہ کچھ نہیں کر سکتی۔انتظامیہ کی انشاء اللہ تعالیٰ پوری کوشش تو ہے لیکن اس کی حدود ہیں لیکن جہاں آپ کی حدود شروع ہو جاتی ہیں وہاں انتظامیہ دخل نہیں دے سکتی۔پس آنے والے مہمان خصوصیت کے ساتھ ان باتوں میں بھی بیدار مغزر ہیں۔آخری بات جو میں کہنی چاہتا ہوں وہ مہمان نوازی سے تعلق رکھتی ہے۔مہمان نوازی سے متعلق مختلف باتیں میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں لیکن ایک دو باتیں ایسی ہیں جو مہمان نوازی کی اعلیٰ قدروں سے تعلق رکھتی ہیں۔اس لئے اہل ربوہ کو عمومی تحریک کرنا چاہتا ہوں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مہمان نوازی کا جو معیار ہمارے سامنے رکھا ہے وہ بار بار جماعت کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے۔تا کہ اس اعلیٰ معیار کو پیش نظر رکھ کر ہم اپنی تربیت کریں۔چنانچہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی بیان فرماتے ہیں: ایک دفعہ دو شخص منی پور آسام سے قادیان آئے اور مہمان خانہ میں آکر انہوں نے خادمانِ مہمان خانہ سے کہا کہ ہمارے بستر اتارے جائیں اور سامان لایا جائے۔چارپائی بچھائی جائے۔“ کئی دفعہ یہاں بھی ایسا ہو جاتا ہے۔مجھے علم ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے لمبی تربیت کے نتیجہ میں اب کارکنان دوڑ دوڑ کر سامان اٹھاتے ہیں اور اتارتے ہیں۔یہ عذر پیش نہیں کرتے کہ ہم مزدور نہیں ہیں۔مزدور لے کر آؤ یا خودا تار ومگر اس زمانہ میں مہمان خانہ کے جو ملازم تھے یا تو شاید نئے تھے یا ان کی ابھی پورے طور پر تربیت نہیں ہو پائی تھی اس لئے : "خادموں نے کہا آپ خود اپنا سامان اتروا ئیں۔چار پائیاں بھی مل جائیں گی۔دونوں مہمان اس بات پر رنجیدہ ہو گئے اور فوراً یکہ میں سوار ہوکر وا پس روانہ ہو گئے۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کہتے ہیں۔میں نے مولوی عبدالکریم صاحب سے یہ ذکر کیا تو مولوی صاحب فرمانے لگے جانے بھی دو ایسے جلد بازوں کو۔حضور کو اس واقعہ کا علم ہوا تو نہایت جلدی سے ایسی حالت