خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 352 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 352

خطبات طاہر جلد اول 352 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۸۲ء اجنبی سے پوچھیں۔آپ کون ہیں کہاں سے آئے ہیں۔کیا بات ہے۔واقعتہ آپ جب اس سے بات کرتے ہیں۔اس سے تعلق بڑھاتے ہیں تو دو فائدے پہنچتے ہیں۔ایک تو یہ کہ اگر وہ بد نیتی سے آیا ہو تو آپ کو معلوم ہو جاتا ہے۔کہ ایک ذہین آدمی سمجھ جاتا ہے اور اگر خود ضرورت مند ہو تو اس کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔دنیا میں آزاد ممالک میں جو پولیس فورسز ہیں وہ اسی اصول پر کام کر رہی ہوتی ہیں۔چنانچہ ایک دفعہ ہمیں خود اس کا تجربہ ہوا میں ۱۹۷۸ء میں جب امریکہ گیا تو شکا گو سے ہمیں ایک اور شہر جانا تھا۔شکا گو بہت بڑا شہر ہے۔اس میں ٹریفک بھی بہت زیادہ ہے۔ہم نے چھ بجے نکلنا تھا لیکن نکلتے نکلتے رات کے نو بج گئے۔جہاں پہنچنا تھا وہ کئی سو میل کا فاصلہ تھا۔رات کے تقریباً دو بج گئے جب کہ ابھی ہم اپنی منزل پر بھی نہیں پہنچے تھے اس لیے ہم نے فیصلہ یہی کیا کہ تھوڑی دیر کہیں آرام کیا جائے۔ہم ایک شہر میں موٹر آہستہ کر کے جگہ ڈھونڈ رہے تھے۔وہ چونکہ نسبتاً چھوٹا قصبہ تھا اس لیے جلدی سو گیا تھا ورنہ امریکہ کے بعض شہر تو دو تین بجے تک آرام سے جاگتے رہتے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد میں نے یہ محسوس کیا کہ ایک موٹر میرے پیچھے لگ گئی ہے۔چنانچہ میں نے اس کو ڈاج دینے کی بہت کوشش کی۔جس طرف میں مڑتا تھا وہ پیچھے آجاتی تھی۔یہاں تک کہ میں نے مناسب یہی سمجھا کہ اب کھل کر بات ہونی چاہئے۔اگر کوئی شریر آدمی ہے تو پھر ٹھیک ہے اس کو شرارت کا موقع اسی شہر میں ملے با ہر نکل کر پھر کیوں ملے۔چنانچہ میں نے موٹر رو کی اور اُتر کر اسکی طرف گیا تو اندر سے ایک پولیس والا اترا۔اس نے سلام کر کے بڑی معذرت سے کہا کہ آپ کو تکلیف دینا مقصود نہیں ہے۔میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا بات ہے۔آپ کیوں آہستہ آہستہ جگہ جگہ پھر رہے ہیں کوئی مقصد نظر نہیں آ رہا۔اس نے بڑے اخلاق سے بات کی۔اس کا مقصد بھی پورا ہو گیا اور میرا مقصد بھی پورا ہو گیا۔میں نے اس کو کہا کہ ہم سونے کے لیے جگہ ڈھونڈ رہے ہیں کوئی جگہ مل نہیں رہی۔اس نے کہا میرے ساتھ تشریف لائیں۔میں ابھی آپ کو جگہ دلوا دیتا ہوں۔چنانچہ وہ ان جگہوں کو جانتا تھا۔وہ ہمیں وہاں لے کر گیا اور رات ٹھہرنے کی بڑی اچھی جگہ مہیا کر دی۔آجکل کی ترقی یافتہ قوموں میں رفتہ رفتہ بعض اخلاق بھی ترقی کر گئے ہیں۔ان میں سے حسن معاشرت کا ایک خلق ہے۔آپ تو پہلے ہی بہت ترقی یافتہ قوم ہیں اتنی ترقی یافتہ کہ حضرت محمد