خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 313 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 313

خطبات طاہر جلد اول 313 خطبه جمعه ۳ / دسمبر ۱۹۸۲ء کام ہے کہ وہ کیسے ہوگی۔اس کے لیے بھی اخراجات درکار ہیں۔تو قرآن کریم کی ایک ایک اشاعت کے لیے ایک ایک کروڑ روپے کی ضرورت پیش آئے گی۔قرآن کریم کی اشاعت کا پورا حق تو انسان ادا ہی نہیں کر سکتا۔لیکن جہاں تک تمنا بیقرار ہے ہم کچھ تو کریں۔الغرض یہ سارے کام وہ ہیں جو بھی ہو نیوالے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے عمومی تصویر اب یہ بن رہی ہے کہ جماعت کے اوپر ابھی تک دو تہائی قرضہ پڑا ہوا ہے ان وعدوں کے لحاظ سے جو جماعت نے یقیناً بڑی محبت اور خلوص اور دیانتداری کے ساتھ پیش کیے تھے۔میں یہ تفصیلات اس لیے بتا رہا ہوں کہ جماعت کے اندر یہ احساس پیدا ہو کہ یہ سارے کام ہم نے ہی کرنے ہیں۔کسی اور نے آکر نہیں کرنے۔اس لیے جہاں سے چاہیں لیں اور جس طرح چاہیں کریں، لیکن یہ قرض جو ان کے ذمہ ہے اسے جلد اتار دیں۔چاہے قرض اٹھائیں ، بچوں کا پیٹ کاٹیں، اپنی دوسری ضروریات پیچھے کریں، اپنے گھروں کی تعمیر پیچھے ڈال دیں اور جو کچھ بھی وہ کریں گے خدا کی خاطر کریں گے۔کسی پر احسان تو نہیں ہے۔بلکہ جو بھی توفیق خدمت کی ملے گی یہ ان پر احسان ہوگا۔اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ خودان پر اپنے فضلوں کی بارش کرے گا۔یہ ان کا اور خدا کا معاملہ ہے۔نظام جماعت پر کسی کا ایک ذرے کا بھی احسان نہیں ہے۔کیونکہ یہ سوداہی اللہ تعالیٰ کا ہے فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الجنَّة (التوبة (11) کہ تمہارا سودا تو اللہ کے ساتھ ہوا ہے نہ کہ کسی انسان کے ساتھ۔حضرت محمد مصطفی مے کے پاس جا کر احسان جتانے کی کیا ضرورت ہے۔آپ کو فر ما یا ان سے کہہ دو قُلْ لَا تَمُنُّوا عَلَى اِسْلَامَكُمْ (الحجرات:۱۸) تم کہہ رہے ہو کہ ہم نے یہ قربانیاں کیں۔مجھ پر اپنا اسلام ہرگز نہ جتلاؤ۔مجھ پر تمہارا کوئی احسان نہیں ہے بلکہ میں تمہارا محسن ہوں جو تمہیں اعلیٰ مقاصد کی طرف بلا رہا ہوں۔میری وجہ سے تو تمہیں تو فیق مل رہی ہے کہ تم خدا کی خاطر نہایت ہی اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے اپنی زندگیاں پیش کرو۔پس یہ احسان تم پر ہے نہ کہ مجھے پر۔جہاں تک قربانیوں کا تعلق ہے اسلام تو ایک بڑا ہی منصفانہ مذہب ہے۔اگر احسان