خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 314 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 314

خطبات طاہر جلد اول 314 خطبه جمعه ۳ / دسمبر ۱۹۸۲ء محمد مصطفی ﷺ پر نہیں ، آپ کے نظام پر نہیں تو وہ قربانیاں گئیں کہاں؟ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کہیں نہیں گئیں۔وہ میرے پاس ہیں۔انَّ اللهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ اللہ فرماتا ہے کہ میں نے تمہارے ساتھ ایک سودا کیا ہے۔میں نے تمہارا سب کچھ خرید لیا ہے۔تمہاری جانیں بھی خرید لی ہیں۔تمہارے اموال بھی خرید لیے ہیں۔تمہاری جائدادیں بھی ، تمہاری عزتیں بھی، تمہاری ساری تمنائیں بھی میں لے چکا ہوں۔اس لیے کہ ط بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ یعنی ان لوگوں کے لیے میری جنتیں پیش کی جائیں گی۔اور حقیقت یہ ہے کہ سب کچھ دینے کے بعد وہ جنت جو رضائے باری تعالیٰ کی جنت ہے اور جو دائی ہے اگر وہ مل جائے تو ان چیزوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں رہتی۔یہ سودا بھی نام کا ہی سودا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ محبت اور پیار کے اظہار کے لیے سودا کہہ دیتا ہے ورنہ سودا کیسا؟ جو کچھ دیا ہے وہ بھی تو اسی نے دیا تھا۔وہ جب دوبارہ ہم اس کے سامنے پیش کر دیں تو اللہ میاں کہتا ہے میں تم سے سودا کر رہا ہوں۔وہ اگر چاہے تو چھین بھی لیتا ہے۔دیکھتے دیکھتے بڑے بڑے تاجروں کے خلیے بگڑ جایا کرتے ہیں اور ان کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا زمینداروں کے پاؤں تلے سے زمینیں نکل جاتی ہیں۔تو سو (۱۰۰) طریق ہیں اس کے لینے کے ، مگر وہ نہیں لیتا۔عجیب حوصلہ دکھاتا ہے بنی نوع انسان کے ساتھ۔لیکن چاہتا یہ ہے کہ جب میں لوں تو طوعی طریق پر لوں تا کہ دینے والوں کے اندر عظمت کردار پیدا ہو اور اس کے نتیجے میں وہ مزید فضلوں کے وارث بنیں۔یہ ہے فلسفہ اس چندے کا جو حضرت محمد مصطفی عدلیہ نے دنیا سے طلب کیا۔پس یہ سارے کام ہم نے کرنے ہیں، لیکن کسی پر احسان نہیں۔خود ان پر احسان ہے جنہوں نے اپنا سب کچھ پیش کرنا ہے۔یہ ان کا اور خدا کا معاملہ ہے اور جب خدا کے ساتھ خلوص کا معاملہ پڑتا ہے تو خدا اس معاملے کو انسان کے لیے کبھی بھی نقصان کا معاملہ نہیں بننے دیتا۔یہ صرف بیوقوفی ہے، بدظنی ہے، جہالت ہے انسان کی کہ وہ سمجھے کہ میں قربانی کروں گا تو مصیبت میں مبتلا ہو جاؤں گا۔حالانکہ قربانی نہ کرنے والے تو مصیبت میں مبتلا دیکھے گئے ہیں، قربانی کرنے والے کبھی مصیبت میں مبتلا نہیں دیکھے گئے۔نہ وہ مبتلا ہوتے ہیں نہ ان کی اولادیں نہ اولادوں کی اولادیں۔محاورہ ہے کہ