خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 312
خطبات طاہر جلد اول 312 خطبه جمعه ۳/ دسمبر ۱۹۸۲ء لیکن ان میں بعض اسلام کے دشمن بھی تھے۔انہوں نے اعتراض کئے۔یہاں تک کہ اب وہ توسیع کے معاملے میں بھی روک بنے ہوئے ہیں۔یہ توسیعات اس منصوبے کے علاوہ ہیں۔پھر انگلستان میں با وجود اس کے کہ قریب کے عرصہ میں خدا کے فضل سے چھ مشن قائم ہوئے ہیں وہاں ہماری مرکزی مسجد بہت چھوٹی رہ گئی ہے اور وہاں بھی یہی مسئلہ ہے کہ جگہ کی کمی کی وجہ سے دوست باہر کھڑے ہونے پر مجبور ہوتے ہیں۔پارکنگ کی ضروریات پوری ہونے والی ہیں۔احمدیوں کی کاروں سے تمام سڑکیں بھر جاتی ہیں۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمسایوں کو تکلیف ہوتی ہے اور ان کی تکلیف کا اظہار جائز بھی ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ وہ بڑی مہذب قومیں ہیں۔لیکن برداشت کی بھی کچھ حدیں ہوتی ہیں۔اب ہر جمعہ کو دوست مسجد میں اکٹھے ہوں اور تمام سڑکیں بھر دیں اور گزرنے والوں کے لیے ایک مصیبت کھڑی کر دیں تو وہ کہاں تک برداشت کر سکتے ہیں۔اس لیے وہاں کاروں کی پارکنگ کے لیے جگہ کی ضرورت ہے۔اور اس کے لیے بہت سا روپیہ چاہئے۔امریکہ میں کم از کم پانچ مشن فوری طور پر تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔یہ بھی اس منصوبے کے علاوہ ہے اور وہاں کی جماعتوں نے یہ بوجھ بھی اٹھانے ہیں۔پس اتنے وسیع کام پڑے ہوئے ہیں جو ہم نے کرنے ہیں اور ابھی تو میں نے سارے کام آپ کے سامنے پیش ہی نہیں کئے۔ان میں سب سے بڑا اور سب سے اہم کام قرآن کریم کے تراجم کی مختلف زبانوں میں اشاعت ہے۔بہت سی زبانوں میں ابتدائی مراحل پر تر جے مکمل ہو چکے ہیں۔ان کی نظر ثانی ، پھر نظر ثانی ، اور پھر مزید احتیاط ، یہ مراحل ابھی باقی ہیں۔لیکن بسم اللہ کی سب سے لے کر الناس کی س تک کا ترجمہ خدا تعالیٰ کے فضل سے مکمل ہے اور مسودات پڑے ہوئے ہیں۔ان کے اوپر کمیٹیاں قائم کی جارہی ہیں۔ماہرین ڈھونڈے جارہے ہیں تا کہ یہ مسودات بھی جلد سے جلد طباعت کی شکل میں دنیا کے سامنے آئیں۔اخراجات کے سلسلے میں سوئٹزر لینڈ کی ایک کمپنی سے جب فرانسیسی زبان کے صرف ترجمے کے متعلق بات کی گئی کہ ترجمے کو اس درجے تک پہنچا دو کہ پروف ریڈنگ تک کا کام ہو جائے (اس کے بعد باقی سب خرچ جماعت نے کرنا تھا) تو ان کا اندازہ پچپن (۵۵) لاکھ روپے کا تھا اور اس کے بعد پچاس ساٹھ لاکھ روپے اس کی اشاعت پر خرچ ہونا تھا۔پھر اس کی تقسیم کا