خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 165
خطبات طاہر جلد اول 165 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۸۲ء اسلام اور آنحضور ﷺ کے نمائندے کے طور پر یہاں آئے ہیں۔اگر آپ خود ہی اس مذہب کو نہ سمجھیں ، اسکی تعلیمات پر کار بند نہ ہوں اور اپنے ذاتی نمونے پیش نہ کریں تو پھر کس طرح آپ کو ا اسلام اور آنحضور ﷺ کا نمائندہ قرار دیا جا سکتا ہے۔بعض پہلوؤں سے آپ لوگ یہاں اتنی کمزوری دکھاتے ہیں کہ مجھے تکلیف محسوس ہوتی ہے کہ بعض معاملات میں ہم مغرب پر غلبہ حاصل کرنے کی بجائے اس کے زیر اثر آ رہے ہیں۔جہاں تک تبلیغ کا سوال ہے تو سکاٹ لینڈ میں یہ صفر ہے۔میں نے یہاں آکر پتہ کیا کہ کتنے مقامی احمدی دوست یہاں موجود ہیں جن کی خاطر میں انگریزی میں خطاب کروں تو مجھے بتایا گیا کہ صرف ایک خاتون ایسی ہیں۔یہ جو کچھ ہم نے یہاں حاصل کیا ہے اسکا نصف ہے۔کیونکہ ایک اور دوست بھی ہیں جو یہاں موجود نہیں جو بد قسمتی سے غیر حاضر ہیں۔چنانچہ مقامی احمدیوں کی آدھی تعداد یہاں موجود ہے جو صرف ایک ہے۔یہ قابل شرم ہے۔یہ ایسا نکتہ ہے جس پر ہمیں غور کرنا چاہئے۔آپ سب لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں۔تمام نوجوان اور بوڑھے اور خواتین اور مرد حضرات ؟ وہ پاکستان سے یا کسی اور ملک سے یہاں ملازمت کی تلاش یا کاروبار کے سلسلہ میں تشریف لائے ہیں حالانکہ یہ آپ کا بنیادی کام نہیں۔ایک احمدی کے لئے سب سے اہم بات اسلام کا پیغام ہے۔اسے صرف مبلغین کے لئے ہی نہ رہنے دیں ، وہ اکیلے یہ کام کر ہی نہیں سکتے۔یہ بوجھ آپ کو بھی اٹھانا پڑے گا ورنہ اسلام اسی شکست خورده حالت میں رہے گا جیسا کہ آج ہے۔ابتدائی تاریخ اسلام کے مطالعہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ اسلامی انقلاب ملائیت کی وجہ سے نہیں آیا۔اسلام میں تو ملائیت کا کوئی تصور ہی نہیں کہ جس کے ذریعہ اتنا بڑا انقلاب آ سکتا۔چین میں اسلام کس طرح پھیلا؟ تاریخ پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ وہاں کوئی ایک مبلغ بھی نہیں بھجوایا گیا۔میری مراد چین کے ان چار صوبوں سے ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، وہ چار - بڑے صوبے جو تقریباً تمام کے تمام مسلمان ہیں۔وہاں کسی مسلمان حکومت نے ایک شخص بھی نہیں بھجوایا ، فقط تاجر اور ایسے لوگ تھے جو ملازمتوں کی تلاش میں اس طرح گئے جس طرح آپ یہاں آئے