خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 164 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 164

خطبات طاہر جلد اول 164 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۸۲ء سکتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کے فعل کا مطالعہ کرنے میں تو کوئی حرج نہیں۔یہ سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق فرمودہ ہے۔ان کی تخلیق تو نہیں۔اس بارہ میں ان کا ادراک درست ہے۔یہ فیصلہ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا کہ جہاں تک مادی علوم کا تعلق ہے سائنس کا تعلق ہے تو نہ صرف ان سے سیکھو بلکہ ان سے آگے نکلنے کی کوشش کرو۔اس میں کوئی حرج نہیں۔کیونکہ وہ خالق نہیں ہیں۔انہوں نے اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو درست طور پر سمجھ لیا ہے۔لیکن دیگر اقدار میں نہ صرف ان کی پیروی نہ کرو بلکہ ان سے کنارہ کشی اختیار کرلو۔لیکن جو کچھ مجھے یہاں دکھائی دیا ہے وہ بالکل مختلف طریق ہے بلکہ برعکس ہے۔ایشیا سے آئے ہوئے بہت سے لوگ ان کی خوبیوں کی نہیں بلکہ ان کی خامیوں کی پیروی کرتے ہیں اور گمراہ ہو جاتے ہیں۔وہ اپنی اخلاقی اقدار چھوڑ بیٹھتے ہیں۔اپنے اندر کی تمام خوبیاں چھوڑ کر مغربی معاشرے کے گند سمیٹ لیتے ہیں جبکہ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے انہیں چودہ سو سال قبل متنبہ کر دیا تھا۔آپ کی نظر کتنی گہری تھی اور پیغام کیسا خوبصورت ! اس جگہ یہ غلطی کرتے ہیں۔مغرب کی ہر بات کو برا نہ کہو اور ان کے خلاف خواہ مخواہ بغاوت نہ کرو۔یہ پیغام تھا جو آپ نے دیا۔اچھی چیز اور بری چیز میں تمیز کرنا سیکھیں اور میں اس کے لئے آپ کو ایک تیر بہدف نسخہ بتاتا ہوں جس سے آپ کبھی بھی بھٹک نہیں سکیں گے۔وہ یہ ہے کہ اخلاقی و روحانی امور میں اہل مغرب بالکل غلط راستے پر ہیں جبکہ دنیاوی امور میں وہ بالکل درست ہیں۔اس لیے دنیوی امور میں ان کی پیروی کریں۔ان سے سیکھیں اور آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔اس میں کوئی حرج نہیں۔لیکن ان کی اخلاقی ، مذہبی یا معاشرتی اقدار کی پیروی ایک زہر ہے، اسے مت کھائیں۔مگر مشرق سے آنے والے لوگ بعینہ یہی کرتے ہیں۔اس کے لئے احمدیوں سے توقع تھی کہ وہ نہ صرف مغرب کو بلکہ مشرق سے آنے والے لوگوں کو بھی جو یہاں آکران مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں متنبہ کریں گے۔مگر احمدی بھی درحقیقت یہ کام نہیں کر رہے۔اس لئے میں نے آپ پر کھول دیا ہے کہ بدقسمتی سے آپ کون سی اقدار ضائع کر رہے ہیں۔آپ جو مغرب میں آئے ہیں آپ نہ صرف اپنی ذاتی حیثیت میں یہاں آئے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر