خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 166
خطبات طاہر جلد اول 166 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۸۲ء ہیں۔انڈونیشیا میں کس نے تبلیغ کی ؟ نہ کسی تلوار کے ذریعہ اور نہ ہی ایسے مبلغین کے ذریعہ جو آج ہمیں نظر آتے ہیں۔اسوقت ایسا نظام ہی موجود نہیں تھا۔محض عام تاجر پیشہ لوگ گئے اور تبلیغ کرنی شروع کی۔وہ ذمہ دار لوگ تھے۔حضرت محمد مصطفی اللہ نے کوئی پہلو بھی غیر واضح نہیں چھوڑا۔آپ نے دجال کے معانی کھول کر بیان فرمائے۔آپ نے واضح فرمایا کہ قرآن کریم میں اسکا ذکر کہاں ملتا ہے۔آپ نے دجال کی فلاسفی بیان فرمائی۔آپ نے بتادیا کہ کہاں اسکی پیروی کرنی ہے اور کہاں اس کی پیروی نہیں کرنی۔کہاں مخالفت کرنی ہے اور کہاں تعاون۔چنانچہ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ہر پہلو کھول کر بیان فرما دیا۔لیکن بد قسمتی سے ہم آپ کے الفاظ پر غور نہیں کر رہے ہیں۔جسکی طرف میں بار بار آپ کی توجہ مبذول کروارہا ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو، اللہ تعالیٰ آپ کی مددفرمائے۔اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر آپ اللہ تعالیٰ کی خاطر آج سے فیصلہ کر لیں کہ آئندہ آپ ایک مبلغ کی طرح زندگی گزاریں گے۔اگر آج آپ یہ فیصلہ کر لیں کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر آپ اپنی توانائیاں اس ملک کو اسلام کی طرف لانے میں صرف کریں گے تو آپ واضح تبدیلیاں محسوس کریں گے۔آپ کے اردگرد لوگ اسلام میں داخل ہونا شروع ہو جائیں گے۔لیکن یہ تب ہی ہوسکتا ہے جب آپ عاجزی اختیار کریں۔جب آپ مسلسل اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں۔اسی سے مدد کی درخواست کریں۔کیونکہ اس کے بغیر آپ کچھ بھی نہیں۔اس بات کو سمجھ لیں کہ آپ کے پاس اس زمین پر کوئی طاقت نہیں اور پھر اپنے خدا کی طرف متوجہ ہوں، آنسوؤں اور درد بھرے دل کے ساتھ کہ اے خدا! میں نے ان لوگوں کو اسلام میں شامل کرنے کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔میں جو ایک ذرہ ہوں۔کچھ بھی نہیں ہوں۔جس کے پاس کوئی علم نہیں ، دولت نہیں ، کافی طاقت نہیں ، میں اسے کس طرح کر سکتا ہوں ؟ مگر خدا یا میں اسے تیری خاطر کرنا چاہتا ہوں۔مجھے تیری رحمت سے امید ہے۔میں تیری طاقت اور امداد پر یقین رکھتا ہوں۔تو میری مددفرما کیونکہ میں جیسا بھی ہوں بہت عاجز۔تیری مدد کرنا چاہتا ہوں۔پس تو اس عظیم الشان مقصد کے حصول میں جو میں تیری محبت میں حاصل کرنا چاہتا ہوں۔حضرت محمد مصطفی اللہ کے پیار میں حاصل