خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 162 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 162

خطبات طاہر جلد اول 162 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۸۲ء کی مخلوق کو اس کا شریک ٹہرا کرا! يَتَّخِذُوا عِبَادِی مِنْ دُونِی أَو لِيَاءَ اگر میرے بالمقابل وہ شریک بناتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ہی شریک کھڑا کرتے ہیں تو اگر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ کامیاب ہو جائیں گے تو وہ بالکل غلطی پر ہیں۔مزیدان میں بتایا گیا ہے کہ بعض لوگ ہیں جن کی تمام تر توجہ تمام تر توانائیاں اور تمام تر طاقتیں صرف اسی مادی دنیا کے حصول کے لئے ہیں۔الَّذِینَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا اور یہ وہ آیت ہے جسکی طرف میں آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں۔جو ایک بنیادی آیت ہے۔یہ بتاتی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے عقائد عیسائیت پر مبنی ہیں۔جن کا مذہب عیسائیت ہے مگر انہوں نے مادیت میں ترقی کی ہے۔وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنعًا اور وہ سمجھتے ہیں کہ۔انہوں نے دنیا کی بہترین اشیاء حاصل کر لی ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف ان کی تمام توانائیاں اور طاقتیں اس کے حصول میں صرف ہو رہی ہیں بلکہ وہ واقعی بہت کچھ حاصل کر لیں گے یہاں تک کہ وہ سمجھیں گے کہ انہوں نے زندگی بہترین طریق سے صرف کی ہے۔اور اس سے زیادہ کیا بہتر ہوسکتا ہے؟ اب یہ بعینہ وہ صورت ہے جو ہمیں یورپ میں سفر کے دوران نظر آتی ہے کہ وہ مادیت پرستی میں بہت آگے نکل گئے ہیں۔انہوں نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ وہ پاکستان بھارت یا دوسرے غریب ممالک کے لیے شاید سو سال کے بعد بھی تصور میں نہیں آسکتی۔وہ ہم سے کہیں آگے نکل گئے ہیں اور مادیت پرستی کی اس دوڑ میں انہوں نے بہت خوبصورت اشیا حاصل کر لی ہیں۔جسکی طرف قرآن کریم اشارہ کرتا ہے کہ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعا جس کا مطلب یہ ہے کہ صنعت میں وہ ایسا کمال حاصل کریں گے کہ وہ اپنی تیار کردہ اشیا کو دیکھ کر کہیں گے کہ دیکھو انہیں کتنے عمدہ طور پر بنایا گیا ہے۔ہم کتنی خوبصورت اشیاء بنا سکتے ہیں۔چنانچہ سارے یورپ میں یہی چیز نظر آئے گی۔الله یہ صنعت کاری میں بہت آگے جاچکے ہیں یہی قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے اور لفظ دجال کے معانی بالکل واضح ہو جاتے ہیں۔یہ وہی دجال ہے جس کے بارہ میں حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ہمیں بتایا تھا کہ اسکی ایک آنکھ اندھی ہوگی۔یعنی جہاں تک مذہبی اقدار کا تعلق ہے وہ کسی منطق کو سمجھ نہیں سکے