خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 161 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 161

خطبات طاہر جلد اول 161 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۸۲ء یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ مقدس رسول تمہیں اور خصوصاً عیسائیوں کو متنبہ کرنے کے لئے آیا ہے جنہوں نے خیالی طور پر اللہ تعالیٰ کا ایک بیٹا بنالیا ہے، اور وہ اس خیالی وجود کو اللہ تعالیٰ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اسکا بیٹا ہے۔حالانکہ نہ انہیں کوئی علم ہے اور نہ ان کے باپ دادوں کا کوئی علم تھا۔وہ یونہی لغو گفتگو کرتے ہیں۔جیسے انگریزی میں کہتے ہیں Out of the Hats(اٹکل پچو ) چنانچہ یہ ہے كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ مگر یہ لغو باتیں اللہ تعالیٰ کے حضور گناہ اور گستاخی ہیں۔اس لئے وہ سزا کے مستحق ہیں۔ایسی آیات بھی ملتی ہیں جن سے واضح ہے کہ دجال کا یا جو طاقت بھی وہ ہوگی اس کا مذہب عیسائیت ہوگی اور مستقبل کی وہ عیسائیت جو تقریباً مکمل طور پر بت پرستی میں تبدیل ہو چکی ہوگی۔اس کے بعد کی آیات میں عیسائیت کی اس بھری شکل سے ہٹ کر ایسی آیات بیان ہوئی ہیں جن میں ایسے عیسائیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو متقی تھے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں عظیم الشان قربانیاں پیش کیں۔وہ اپنے مخالفین سے اپنا مذہب بچانے کے لئے غاروں میں چھپے رہے یہ دوسرے لوگ تھے جن کا ذکر ہے ، اور یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ عیسائی آئندہ جو ترقیات بھی حاصل کریں گے وہ دراصل ان کے آباؤ اجداد کے نیک اعمال کا نتیجہ ہوں گی۔یہ ان کے اعمال کی جزا نہیں ہوگی بلکہ اپنے بزرگوں کے اعمال کے پھل وہ اس دنیا میں کھائیں گے۔چونکہ یہ ایک الگ مضمون ہے اور وہ لوگ دجال میں شامل نہیں اس لئے حضرت محمد مصطفی اللہ نے خود کو پہلی دس آیات تک ہی محدود کیا ہے کیونکہ اصحاب کہف یا غاروں والے لوگوں کا جو ذکر ملتا ہے وہ اس تنبیہ سے بری ہیں۔در حقیقت قرآن کریم میں ان کا ذکر بڑی محبت اور عزت سے کیا گیا ہے۔اس کے بعد ان کا ذکر چھوڑ کر ہم آخری دس آیات کو لیتے ہیں کہ وہاں کیا ذکر ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔أَفَحَسِبَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ يَتَّخِذُوا عِبَادِي مِنْ دُونِى أو لِيَاءَ إِنَّا أَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكُفِرِينَ نُزُلًا (الكيف : ١٠٣) أَفَحَسِبَ الَّذِينَ كَفَرُواوہ جو آنحضور ﷺ کا انکار کر بیٹھے ہیں ، ماننے سے انکار کر دیا ہے۔کیا ان کا خیال ہے ، وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ کامیاب ہو جائیں گے۔کس لیے؟ اللہ تعالیٰ