خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 151 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 151

خطبات طاہر جلد اول 151 خطبہ جمعہ ۷ ار ستمبر ۱۹۸۲ء لیکن جیسا کہ پہلے میں کہہ چکا ہوں یہ لوگ نہایت صبر کے ساتھ اور نہایت پیار کے ساتھ شکوہ کا ایک لفظ بھی زبان پر لائے بغیر یہ سب کچھ برداشت کرتے ہیں۔مگر آنے والوں کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اسلام میں اچھے رویہ کا حکم یکطرفہ نہیں ہے۔فریقین پر ایسی ذمہ داریاں ہیں جو دونوں طرف سے نباہنی چاہئیں۔چنانچہ مہمانوں پر بھی کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں اور انہیں ان کا پوری طرح خیال رکھنا چاہئے۔انہیں بوجھ نہیں بننا چاہئے اور کسی شریف آدمی کے اخلاص سے نا واجب فوائد نہیں اٹھانے چاہئیں۔اگر وہ اس بات کا خیال نہ رکھیں تو آئندہ جماعت میں کئی مسائل کھڑے ہو جائیں گے۔کیونکہ خدا کی خاطر احمدیوں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنا کوئی ایسی روایت نہیں جو تھوڑے عرصہ کے لئے ہو۔یہ کوئی عارضی کام نہیں بلکہ یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہمارے ساتھ چلے گا۔چنانچہ ہمیں مہمان نوازی کی اعلیٰ روایات کو نقصان نہ پہنچانے اور لوگوں کی ہمدردی سے ناجائز فوائد حاصل نہ کرنے کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔مگر اسوقت میرے ذہن میں کہنے کی کچھ اور باتیں ہیں اور جو یہاں آتے ہیں میں ان کی توجہ اس طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں۔آج سے کوئی تین ماہ قبل اتفاقا یہ بات علم میں لائی گئی۔میرے علم میں یہ بات کوئی دوست جو لندن سے ہو کر آئے تھے لائے کہ یہاں اکثریت ایسی ہے جو مہمان نواز ہے اور جماعتی کاموں میں آگے آگے ہیں اور اپنی شکایات کا کسی سے ذکر بھی نہیں کرتے۔کچھ تھوڑے سے لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی شکایات کا برملا اظہار کرتے ہیں۔وہ آنے والے مہمانوں کے برے رویہ کا ذکر بڑے زور شور سے کرتے رہتے ہیں جس سے ان ممالک کے رہنے والوں کو بہت شرم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔چنانچہ اسی لئے میں نے اس موضوع کو اٹھایا ہے۔گو بظا ہر یہ معاملہ لندن سے تعلق رکھتا ہے مگر آپ کے سامنے اسے پیش کرنے سے میری مراد ساری جماعت کو نصیحت کرنا ہے۔کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ معاملہ بظا ہر چھوٹا سا ہے لیکن دراصل یہ چھوٹا سا نہیں ہے۔اور اگر اس پر ابھی سے توجہ نہ دی جائے تو یہ بالآخر جماعت کے بنیادی مقصد پر حملہ آور ہو جائیگا۔اس سے بھی زیادہ میرے علم میں یہ بات لائی گئی کہ بعض لوگ یہاں آکر قرض اس وعدہ پر لے لیتے ہیں کہ واپس جاتے ہی وہ یہ رقم واپس کر دیں گے مگر پھر ان کا یہ تھوڑا سا عرصہ دنوں سے ہفتوں اور پھر مہینوں اور بعض دفعہ سالوں پر محیط ہو