خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 150
خطبات طاہر جلد اول 150 خطبہ جمعہ ۷ ارستمبر ۱۹۸۲ء۔صرف اچھی طرح علم رکھتے ہوں بلکہ انہیں اردو ادب سے بھی واقفیت ہو اور اسی طرح وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات سے بھی بخوبی واقف ہو جائیں۔چنانچہ اس طرف خاص توجہ کرنی چاہئے۔اب میں ایک ایسے سوال کی طرف آتا ہوں جس کی اہمیت ہے تو عارضی لیکن پھر بھی اسے بیان کرنے کی ضرورت ہے۔لیکن پہلے میں مقامی لندن جماعت کی طرف سے اسلامی روح کے ساتھ پیش کی گئی مہمان نوازی پر خلوص دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے باہر سے آنے والے تمام مہمانوں کے لئے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیئے۔انہوں نے اس بات کے باوجود ان کی خاطر داری میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی کہ یہاں گھر عموماً چھوٹے ہیں اور غسلخانے وغیرہ کافی نہیں۔چنانچہ خصوصاً ان مہمانوں کے لئے جن سے ان کی کوئی رشتہ داری بھی نہیں انہوں نے واقعی بڑی قربانی دی ہے۔کیونکہ جب ایک گھر میں کچھ مہمان بھی موجود ہوں تو واقعتہ بعض مشکلات کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔اس کے علاوہ یہاں گھروں میں ملازمین بھی میسر نہیں جو مشرقی ممالک میں درمیانہ درجہ کے گھروں میں بھی میسر ہوتے ہیں جو کپڑوں کی دھلائی اور کھانا وغیرہ تیار کرنے میں محمد ہو جاتے ہیں اور اس طرح یہاں کی طرز زندگی کے ساتھ ایسے مسائل جڑے ہوئے ہیں جن کو نظر میں رکھتے ہوئے ان کی مہمان نوازی کا معیار بہت بلند ہو جاتا ہے اور ہمیں اسی کے مطابق ان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔بے شک اسلام میں مہمان نوازی کا تصور تین دن تک کے لئے ہے۔تیسرے دن کے سورج ڈھلنے تک یا زیادہ سے زیادہ چوتھے دن کے سورج نکلنے تک اور احادیث میں یہاں تک ہی یہ ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔لیکن لندن جماعت میں اسکا عرصہ بعض اوقات دو ہفتوں تک بڑھ جاتا ہے کیونکہ بعض دوست جو پاکستان یا کسی اور ملک سے آئے ہوں ،سوچتے ہیں کہ یہاں آنے تک کرایہ وغیرہ کے جو اخراجات ہوئے ہیں وہ صرف چند دن کی رہائش میں پورے نہیں ہو سکتے۔چنانچہ قدرتی طور پر اس وجہ سے اور اس وجہ سے کہ وہ انگلستان کی اچھی طرح سیر کرنا چاہتے ہیں انہیں یہاں زیادہ ٹھہرنا پڑتا ہے حتی کہ بعض اوقات تین دن تین ہفتوں میں بدل جاتے ہیں اور اس کے باوجود مقامی دوست یہ ذمہ داری اٹھائے رکھتے ہیں۔اور بعض اوقات تو ہفتے مہینوں میں بدل جاتے ہیں اور چوتھے دن کا سورج نکلنے کی بجائے چوتھے مہینے کا نیا چاند مہمانوں کو انہیں کے گھروں میں پاتا ہے۔