خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 152 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 152

خطبات طاہر جلد اول 152 خطبہ جمعہ ۱۷ ستمبر ۱۹۸۲ء جاتا ہے۔یہ بہت قابل شرم بات ہے۔یہ ہے وہ بات جسے میں سنگین جرم کہتا ہوں۔یہ برداشت نہیں کیا جا سکتا۔یہ ان کے احسان کا نہایت برے طریق سے بدلہ اتارنا ہے۔چنانچہ میں تمام آنے والوں کو تنبیہ کرتا ہوں کہ عمدہ رویہ اختیار کریں۔اگر وہ ان کے احسانات کا بدلہ اچھے طور پر نہیں اتار سکتے اور بدلہ وصول کرنے کی خواہش میز بانوں کو ہے بھی نہیں تو کم از کم ایک اچھے انسان کا رویہ ہی اختیار کریں اور ہمیں تو اس سے بڑھ کر ایک مسلمان اور آنحضور علیہ کے سچے پیروکار کا رویہ اختیار کرنا چاہئے۔میں ان سے توقع کرتا ہوں کہ وہ عام انسانی رویہ سے نیچے نہیں گریں گے۔یہ بہت قابل شرم بات ہے۔عام انسانی رویہ سے میری مراد یہ ہے کہ کسی کی مہمان نوازی سے تمام تر فوائد حاصل کئے جائیں اور پھر اس سے اس وجہ سے رقم قرض لی جائے کہ مہمان کے پاس پیسے کم ہو گئے ہیں مزید برآں زرمبادلہ کا مسئلہ ہے وغیرہ وغیرہ۔نیز ٹیلیفون کے اخراجات ہیں اور پھر ان کی واپس ادا ئیگی کو بالکل فراموش کر دیا جائے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان سے تعلق رکھنے والوں کے لئے تو یہ ایک بہت بڑا جرم بن جاتا ہے۔اور یہ بات میرے لیے بہت ہی تکلیف دہ ہے کہ ایک شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان سے تعلق رکھتا ہو وہ اس قسم کا رویہ اختیار کرے کیونکہ پھر اسکا اثر و ہیں ختم نہیں ہوجا تا بلکہ میرے پیارے امام مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تک براہ راست تو نہیں مگر بالواسطہ پہنچتا ہے۔حضور کے نام پر بھی اسکی زد پڑتی ہے۔اور یہ بات میرے لیے سخت تکلیف کا باعث ہے۔چنانچہ میں خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد کو تنبیہ کرتا ہوں کہ وہ اپنے رویے درست کریں۔نہ صرف انصاف اور برابری کے حوالہ سے رویے درست کریں بلکہ اپنے مقام کا بھی خیال رکھیں۔شفقت کا رخ ان کی طرف سے اوروں کی طرف ہونا چاہئے نہ کہ اس کے برعکس۔یہی ان کے لئے باعث اعزاز ہے۔اگر وہ واقعۂ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے دوہرا رشتہ رکھتے ہیں تو ان سے یہی توقع کی جاتی ہے اور اگر انہوں نے اس طرف توجہ نہ کی تو وہ خدا تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہوں گے۔میں آپ کو بتا دوں کہ آئندہ سے کسی ہمدردی کے جوش میں ان کے کسی مطالبہ کو نہ مانیں سوائے اس کے کہ اپنے امیر سے اجازت حاصل