خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 116
خطبات طاہر جلد اول 116 خطبه جمعه ۲۰ / اگست ۱۹۸۲ء خدانخواستہ اس طاقت سے خالی ہوگئی تو اس کی مثال تو ایسی ہوگی جیسے کوئی بہت اچھی کار ہو لیکن پڑول مہیا نہ ہو۔آپ لاکھ کوشش کریں اس کو دھکیلنا جان جوکھوں کا کام ہوگا۔بعض لوگ ایسی گاڑیوں کو چھوڑ کر پیدل سفر کرنے لگتے ہیں۔یہی حال ان مذہبی جماعتوں کا ہوا کرتا ہے جو اپنے اندر عبادت کی روح پیدا کرنے سے غافل ہو جاتی ہیں۔پھر لوگ ان کو دھکیلتے دھکیلتے تھک جاتے ہیں یہاں تک کہ پھر ان کو چھوڑ دیتے ہیں اور اپنی اپنی گٹھڑیاں اٹھا کر اپنی راہیں لیتے ہیں۔مذہب کا یہی المیہ ہے جو ہمیشہ دیکھنے میں آتا رہا ہے۔پس احمدیت کی اس گاڑی کو جسے خدا کے نام پر اسلام کی سر بلندی کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے خون سے سینچتے ہوئے اور اس میں اپنا خون بھر کر دنیا میں جاری فرمایا ہے، اسکو اپنے خونوں سے بھری رکھیں یعنی محبت کے خون سے عشق کے خون سے، اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیوں کے خون سے۔خدا تعالیٰ کی عبادت کے جذبہ سے یہ گاڑی آگے چلے گی۔پس یہ وہ بنیادی حقیقت ہے جس سے کبھی غافل نہ ہوں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے عبادت کے دو پہلو ہیں ایک ظاہری اور دوسرا باطنی۔ظاہری پہلو بھی بہت اہم اور ضروری ہے۔کیونکہ ظاہری پہلو کی اگر حفاظت نہ کی جائے تو محض وہ پیٹرول رہ جائے گا جو کسی گاڑی کے چلانے کے کام آ سکتا ہے مگر گاڑی موجود نہیں ہوگی تو ایسا پڑول بھی کسی کام کا نہیں۔اس لئے دونوں باتیں ضروری ہیں اور دونوں ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں اور ایک دوسرے کے لئے لازم ہیں۔پس ظاہر کی حفاظت بھی بہت ہی ضروری اور اہم ہے اور بنیادی حقیقت ہے۔عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ جب ظاہر کی طرف سے انسان غافل ہونا شروع ہو جائے تو رفتہ رفتہ باطنی لحاظ سے بھی انسان غافل ہونے لگ جاتا ہے۔اس لئے ان ملکوں میں جن میں آپ بس رہے ہیں ان میں پہلی ضرورت ظاہر کی حفاظت کی ہے۔وجہ یہ ہے کہ آپ میں سے اکثر ایسے ہیں جو نماز کے مختلف اوقات کے دوران کام میں مصروف ہوتے ہیں اور نماز پڑھنے کی یا تو وہ جگہ نہیں پاتے یا عام جگہوں پر نماز پڑھنے سے شرما جاتے ہیں یا ایسی جگہیں جہاں مسجد میں دور دور ہوں اور بہت کم مواقع ملیں مسجدوں میں حاضری کیلئے وہاں باجماعت نماز کا تصور اڑ جاتا ہے اور آہستہ آہستہ انسان یہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ اکیلی نماز ہی اصل نماز ہے۔پھر اکیلی نماز بھی پوری نہیں رہتی۔پھر موسم کے تقاضے ایسے ہوتے ہیں کہ انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ سورج کا نکلنا یا نہ نکلنا یہ تو عارضی نشانیاں ہیں۔ہم جن ملکوں