خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 117
خطبات طاہر جلد اول 117 خطبه جمعه ۲۰ / اگست ۱۹۸۲ء میں بس رہے ہیں ہم اُن سے بالا ہیں۔اس لئے جب آنکھ کھلے اس وقت نماز پڑھ لینی چاہئے۔یہ کمزوریاں رفتہ رفتہ بڑھنے لگتی ہیں۔پھر نمازیں جمع کرنے کی طرف رجحان ہو جاتا ہے۔پھر نمازیں جمع کرتے کرتے نمازیں Miss بھی ہونے لگ جاتی ہیں۔یہ سارا ایک ایسا تکلیف دہ اور پر عذاب منظر ہے جو بعض ملکوں کا مقدر ہے اور وہاں جب تک ایک ذہین آدمی پوری بیدار مغزی کے ساتھ ان مصائب اور تکالیف کا جو نماز کی راہ میں پیش آتی ہیں مقابلہ نہ کرے وہ پوری طرح نماز کا حق ادا نہیں کر سکتا۔اس لئے میں خاص طور پر ان ملکوں کے احباب جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے رب سے یہ عہد کریں کہ خدا کی عبادت سے غافل نہیں ہوں گے۔یہ ان کی زندگی کا سرمایہ ہے۔یہ ان کا زادِ راہ ہے ان کی ذات کے لئے بھی اور جماعت کی اجتماعی حیثیت کے لحاظ سے بھی۔یہ زادِ راہ جتنا زیادہ ہوگا احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو اتنی ہی زیادہ قوت و طاقت اور شان و شوکت نصیب ہوگی۔میں اس سلسلہ میں چند مشورے احباب جماعت کو دیتا ہوں۔سب سے پہلے تو دوست یہ عہد کریں کہ جہاں تک ممکن ہو سوائے ان ضروریات کے جن میں اللہ تعالیٰ اجازت دیتا ہے کہ نمازیں جمع کی جائیں ، نمازیں اپنے وقت پر ادا کیا کریں اور اس بات کی پرواہ نہ کیا کریں کہ کون آپ کو دیکھ رہا ہے اور کیا سمجھ رہا ہے۔یہ محض جھوٹی شر میں ہیں اور ایسی حیائیں ہیں جو در حقیقت بے حیائی کا رنگ رکھتی ہیں یعنی اللہ سے شرمانے کی بجائے اگر کوئی شخص انسان سے شرمانے لگ جائے تو اسی کا نام بے حیائی ہے۔جہاں شرم کا حق ہے وہاں یہ حق ادا ہونا چاہئے۔میں نے دیکھا ہے کئی عورتیں جو بے پرد ہونے لگیں تو وہ ایسا کرتی ہیں کہ جب کوئی واقف یا محرم مرد سامنے آجائے تو اس سے پردہ کر لیتی ہیں اور جب غیروں کے سامنے جاتی ہیں تو پردہ اتار دیتی ہیں اور یہی بے حیائی ہے۔اور عبادت میں بے حیائی یہ ہے کہ انسان دوسرے انسان سے شرمانے لگ جائے اور اللہ پر نظر نہ رکھے کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے اور مجھ سے کیا توقع رکھتا ہے، دنیا کے ادنی آدمیوں سے جن سے میرا کچھ بھی واسطہ نہیں ، نہ وہ مجھے کچھ دے سکتے ہیں اور نہ مجھ سے کچھ چھین سکتے ہیں ،ان سے شرما کر میں عبادت سے غافل ہورہا ہوں اور اپنے خالق و مالک سے بے وفائی کر رہا ہوں۔غرض یہ ہے وہ جھوٹی شرم جوا کثر غیر ملکوں میں بسنے والوں کی راہ میں روک بن جایا کرتی ہے۔خود مجھے اس کا تجربہ ہے۔