خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 82 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 82

خطبات ناصر جلد نهم ۸۲ خطبه جمعه یکم مئی ۱۹۸۱ء گے تو اس زندگی میں وہ حسین معاشرہ قائم نہیں کر سکو گے جو مذہب اسلام قائم کرنا چاہتا ہے۔ایک ( میں نے بتایا ہے میں تمہید کے Point صرف بتارہا ہوں ) یہ اپنے ذہن میں رکھیں۔سورۃ تغابن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ہاں ایک اور چیز میں واضح کر دوں کہ پہلی آیت میں، جو ابھی میں نے پڑھی ، یہ ہے کہ محامد کا ملہ خدا کے ہیں اور یہ ہستی ہے، جو ہے۔الْحَمدُ لِلهِ، لَهُ الْحَمْد کہ سب تعریفیں اسی کی ہیں محامد کا ملہ کا وہ مستحق ہے۔اس منبع اور سر چشمہ سے اس کے سارے احکام جاری ہوتے ہیں اور دوسری آیت میں یہ ہے کہ بادشاہت اسی کی ہے اور اس کے سارے احکام جو بطور حاکم اعلیٰ اس نے جاری کئے ہیں اس کے نتیجہ میں حمد پیدا ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ یہاں سورۃ تغابن میں فرماتا ہے۔يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ (التغابن : ۲) کا ئنات کی ہر شے کا مطالعہ کر کے دیکھو نتیجہ یہ نکلے گا کہ خدا تعالیٰ کی ان صفات کے جلوے جن کے نتیجہ میں یہ کائنات پیدا ہوئی اور کائنات کا ہر جزو اور اکائی پیدا ہوئی وہ ہر قسم کے نقص سے پاک اور منزہ ہے اس لئے جس عظیم ہستی کی صفات کے یہ جلوے ہیں وہ بھی ہر قسم کے نقص اور کمزوری سے منزہ ہیں اور پاک ہیں يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ - له الملك بادشاہت خدا کی ہے۔وَ لَهُ الْحَمدُ اور اس بادشاہت کے معنے ہیں حکم جاری کرنا ، شاہ وقت کا کام ہی ہے بطور بادشاہ اپنی رعایا میں احکام جاری کرنا اور اس سلسلہ میں ساری کائنات اللہ تعالیٰ کی رعایا ہے۔اس میں اس کے حکم جاری ہوتے ہیں (ذرا تفصیل آپ کو بتادوں ) اس بادشاہ کا حکم ہر آن اربوں دفعہ شاید، بے شمار دفعہ جاری ہوتا ہے۔قرآن کریم نے کہا ہمارے علم کے بغیر اور ہمارے حکم کے بغیر درخت کا پتہ نہیں گرتا۔قرآن کریم کہتا ہے کہ ہمارے حکم کے بغیر سمندروں کا پانی بخارات کی شکل اختیار نہیں کرتا۔قرآن کریم کہتا ہے کہ ہمارے حکم کے بغیر یہ بخارات کسی ایک جہت کی طرف حرکت نہیں کرتے۔ہواؤں کو جب تک حکم نہ ہو وہ ادھر نہیں جاتیں۔قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ بخارات ہمارے حکم سے ایسے بنتے ہیں کہ اس میں سے بارش کے قطروں کا گرنا ممکن ہو جائے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ ہر تبد یلی اس کا ئنات میں ، کائنات