خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 83
خطبات ناصر جلد نهم ۸۳ خطبه جمعه یکم مئی ۱۹۸۱ء کی ہر جزو میں، گندم میں گندم کے ہر دانہ میں اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک اللہ تعالیٰ کا حکم نازل نہ ہو۔یہاں بہت سے زمیندار بھی بیٹھے ہوں گے۔گندم کے دانے جاکے پھینک دیتے ہیں زمین میں یا ڈرل کر دیتے ہیں یا چھٹا کر کے اوپر ہل چلا دیتے ہیں۔آپ کا جو عمل ہے اس کا ایک نتیجہ نکلنا چاہیے نا۔مگر ایک سانتیجہ نہیں نکلتا۔بعض دانے ہیں وہGerminate ( جرمینیٹ ) ہی نہیں کرتے۔آپ کا تو کوئی اختیار نہیں اس میں۔نہ آپ نے حکم دیا کسی دانے کو کہلو۔Germinate کر یعنی روئیدگی نکل آئے اور نہ کسی کو حکم دیا کہ نہ نکل پھر روئیدگی جن کی نکلی ان میں سے بعض مرجاتے ہیں۔میں آپ زمیندار ہوں۔میں نے گندم ہوئی ہے۔کھڑے ہو کے اس کا مشاہدہ کیا ہے الہی آیات کو سمجھنے کے لئے ، اس کی جو صفات جلوہ گر ہوتی ہیں ہر چیز کے اوپر۔پس میرا عینی مشاہدہ ہے جو میں بیان کر رہا ہوں۔بعض ایسے دانے ہیں جو بہت طاقتور نظر آتے ہیں اگنے کے وقت ، خیال ہوتا ہے اچھا پودا بنے گا۔مگر چند دنوں کے بعد وہ مرجاتے ہیں۔بعض ایسے دانے ہیں جو بڑے ضعف کی حالت میں زمین سے باہر سر نکالتے ہیں اور آخر میں وہ پھل دیتے ہیں سنبلیں ان میں نکلتی ہیں اور دانوں سے بھری ہوئی ہوتی ہیں۔بعض دانے ایسے ہیں جو نکلتے ہیں لیکن آپ کے لئے نہیں نکلتے۔وہاں فاختہ آتی ہے کھا جاتی ہے کسی نے محاورہ بنایا تھا کہ ہر دانے پر نام لکھا ہوتا ہے کہ یہ کس کا رزق ہے۔لکھا ہوتا ہے یا نہیں لیکن خدا کی تقدیر میں ضرور لکھا ہوا ہے۔گندم کے دانوں کو کھانے والے بعض ایسے ہیں جو صرف روئیدگی جو نکلی ہے اس کو کھا لیتے ہیں اور جو دانہ باقی رہ جاتا ہے اس کو وہیں پھینک دیتے ہیں۔پھر کیڑے آتے ہیں ان کو کھاتے ہیں پھر آگے Division of food جو تقسیم ہے کھانے کی شروع ہو جاتی ہے۔تو له الملك بادشاہت حقیقتاً اسی کی ہے اور شہنشاہ ہونے کی حیثیت میں ہر آن بے شمار احکام اس کے نازل ہورہے ہیں اور سارے کے سارے احکام ایسے ہیں۔وَ لَهُ الْحَمْدُ۔جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ محامد کا ملہ کا وہ مستحق ہے۔کوئی ایک صفت باری ایسی جلوہ گر نہیں ہوتی اس کائنات میں جس سے یہ نتیجہ نکلے کہ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ میں کوئی ضعف ہے۔حکم اسی کا چلے گا وَهُوَ