خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 81
خطبات ناصر جلد نهم ΔΙ خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۸۱ء اس کے حکم کی پیروی کر لیکن حقیقت یہی ہے وَ لَهُ الْحُکم۔انسانی زندگی میں بھی یہی حقیقت ہے۔وَ لَهُ الْحُكم یعنی باوجود اس کے کہ انسان کو یہ آزادی حاصل ہے کہ چاہے تو خدا تعالیٰ کے حکم کا انکار کر دے مثلاً خدا تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ چار سے زیادہ شادیاں نہیں کرنی لیکن افریقہ کی تاریخ کا میں نے مطالعہ کیا بہت سے مسلمان قبائل ایسے تھے جنہوں نے پانچ پانچ ، سات سات ، آٹھ آٹھ شادیاں کر لیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا کا حکم نہیں جاری ہوا کیونکہ حکم خدا کا یہ ہے کہ میری بات مانو گے تو وہ نتیجہ نکلے گا جو امن پیدا کرنے والا ، جو خوشحالی پیدا کرنے والا ، جو کامیابی اور فلاح پیدا کرنے والا ہے یہ حکم ہے۔جو حکم توڑے گا، حکم خدا کا چلے گا، یہ نہیں کہ حکم توڑ کے انسان اپنے مقصد حیات میں کامیاب ہو جائے۔جس غرض کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے اس میں وہ کامیاب صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے حکم کو مانے۔اگر وہ حکم کو توڑتا ہے اور دنیا سمجھتی ہے اس نے حکم کو توڑا لیکن حکم خدا ہی کا چلا کیونکہ خدا کا حکم اس کے ساتھ یہ بھی ہے ، اگر میرے حکم کو توڑو گے تو نا کام رہو گے اس دنیا میں بھی اور اُخروی زندگی میں بھی اور وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُونَ سے بڑی بات یہ ہے کہ مرنے کے بعد اس کی طرف لوٹ کے جانا ہے۔اس زندگی میں بھی آخری فیصلے اسی نے کرنے ہیں۔فرعون نے بھی تو دعویٰ کیا تھا آنا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى (النازعات : ۲۵) کس خدا کے پیچھے تم دوڑے پھرتے ہو، میں ہوں تمہارا سب سے بلند رب لیکن وہ جو اپنے دعوی کے لحاظ سے اعلیٰ رب تھا اس کی بلندی تو سمندر کی لہروں سے بھی اوپر نہیں نکلی اور وہاں وہ غرق ہو گیا۔خلاصہ اس آیت کے مضمون کا یہ ہے کہ علم کامل اللہ کو ہے۔کوئی چیز اس سے چھپی نہیں۔تمام محامد کا ملہ اس کے ہیں۔اس واسطے اس کے ہر حکم کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی حمد ثابت ہوتی ہے، اس کی تعریف نکلتی ہے اس سے۔کوئی خدائی حکم ایسا نہیں جس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی تعریف نہ نکلے، جو حکم تو ڑتا ہے اس کا بدنتیجہ بھی یہی ثابت کرتا ہے نا کہ خدا تعالیٰ سب محامد کا ملہ کا مستحق ہے۔احکام اس کے حکم کے مطابق جاری ہوتے ہیں وَ الَیهِ تُرْجَعُونَ اور جزا و سزا اس کے ہاتھ میں ہے۔ٹھیک ہے انسان کو آزادی دی حکم توڑ دو لیکن ساتھ یہ کہ دیا کہ یہ تمہیں ہم بتادیتے ہیں کہ حکم تو رو گے تو جس غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس کے حصول میں تم کامیاب نہیں ہو گے۔اگر حکم توڑو