خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 65 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 65

خطبات ناصر جلد نهم خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۸۱ء اور وعظ ونصیحت بھی انہوں نے زیادہ بار سنا ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے گھر کے ماحول کو اسلامی ماحول بنائیں اور اس بات کی ذمہ داری ہے ان کے کندھوں پر کہ وہ یہ دیکھیں کہ ان کے گھروں میں تلاوت قرآن ہوتی ہے، قرآن کریم کا ترجمہ ان کے گھر میں جو ان کے ساتھ تعلق رکھنے والے بچے بچیاں ہیں ان کو سکھایا جا رہا ہے، جو آج کی دنیا ہے اس کے متعلق بتایا جارہا ہے۔جو نوع انسانی کی آج کی ضرورتیں ہیں ان کی طرف انہیں توجہ دلائی جارہی ہے اور ان کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ آج کی دنیا کے مسائل سوائے اسلام کے کسی اور جگہ سے حل نہیں کروائے جا سکتے اور یہ ذمہ داری جماعت احمدیہ پر ہے۔یہ ایک نسل کی ذمہ داری نہیں۔اگر یہ کام ایک نسل پہ ختم ہوجا تا تو ہم خوش ہوتے کہ ایک نسل جو ہے ہماری عمر میں بڑی، اگر ان کی تربیت ہو جائے اور وہ اپنی ذمہ داریوں کو نبا ہیں تو ہم کامیاب ہو جائیں گے لیکن نسلاً بعد نسل نوع انسانی کو دائرہ اسلام میں داخل کر نا تا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ٹھنڈے سائے تلے ان کی زندگیاں گزریں اور نوع انسانی کو قیامت تک اس قابل بنائے رکھنا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور برکتوں کی وہ وارث ہوتی رہے۔یہ تو قیامت تک آنے والی نسلوں کی ذمہ داری ہے اور ہر بڑی نسل کی یہ ذمہ داری ہے کہ اگلی نسل کے دل میں یہ جوش پیدا کرے کہ جہاں تک ہمارے بزرگ پہنچے تھے ہم اس سے آگے نکلیں، آگے نکلیں گے تو کام ہوگا کیونکہ کام میں زیادتی ہو رہی ہے۔اندرونی تربیت کو ہی لے لو۔جس وقت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں پہلا جلسہ ہوا۔غالباً ( صحیح تعداد مجھے اس وقت یاد نہیں ہے ) ستر کے قریب تھے افراد۔چھوٹی سی جماعت تھی ، اس چھوٹی سی جماعت کی اندرونی تربیت مختصر تھی۔اب ہمارے جلسے میں ڈیڑھ اور دولاکھ کے درمیان کا اندازہ ہے گزشتہ جلسے میں۔پس ذمہ داریاں بڑھ گئیں۔پہلے جس تعداد میں نئے احمدیت میں داخل ہونے والے تھے اس سے کہیں زیادہ اب داخل ہونے والے ہیں۔بعض ایسے سال بھی گزرے ہوں گے۔بعض دفعہ بڑا جوش بھی آیا طبائع میں لیکن بعض ایسے سال بھی گزرے ہوں گے کہ سارے سال میں جتنے نئے احمدیت میں داخل ہونے والے تھے اس سے زیادہ ایک مہینے میں بعض دفعہ ایک ہفتے میں ہو جاتے ہیں نئے احمدی۔تو ایک احمدی کی