خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 64
خطبات ناصر جلد نهم ۶۴ خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۸۱ء دائرہ عمل میں کام کرنا ہے اور جو جماعت احمد یہ ہے اس نے بڑے وسیع پیمانہ پر اس مہم کے لئے تیاری کرنی ہے جو جماعت کے سپرد کی گئی یعنی اس زمانہ میں اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرنا۔خدام الاحمدیہ نگرانی کرتی ہے کہ نوجوان اور اطفال قرآن کریم کی طرف توجہ کریں۔انہیں نماز آتی ہو۔موٹے موٹے مسائل اطفال کو معلوم ہوں۔ایک حد تک قرآن کریم پڑھانے کا انتظام بھی کرتے ہیں۔یادر ہانیاں کراتے ہیں لیکن جہاں تک گھروں کے ماحول کا تعلق ہے خدام الاحمدیہ کا تو اس سے کوئی تعلق نہیں کہ زید یا بکر یا عمرو کے گھر میں کس قسم کا ماحول ہے اور اس گھر میں کیا کوشش ہو رہی ہے اپنے بچوں کی تربیت کی ، ان کے دل میں خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا کرنے کے لئے ، اسلام کی عظمتیں ان کے دلوں میں ڈالی جارہی ہیں یا نہیں۔جو ذمہ داریاں والدین پر یا بڑی عمر کے عزیزوں اور رشتہ داروں پر اور چھوٹی عمر کے بچوں اور بچیوں پر ہیں ان کی طرف توجہ دی جارہی ہے یا نہیں۔خدام الاحمدیہ کو اس کا کیا علم۔خدام الاحمدیہ کا تعلق تو ایک خاص دائرہ میں ہے اور اس وقت ہے جب گھر سے بچہ باہر نکلتا ہے۔جب گھر میں ہوتا ہے تو خدام الاحمدیہ کو اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔خدام الاحمدیہ کو دین نے بھی اجازت نہیں دی نہ جماعت احمد یہ یہ اجازت دے سکتی تھی خدام الاحمدیہ کو کہ وہ گھروں کے اندر داخل ہوجائیں۔اس کی اجازت تو عزیزوں کو بھی نہیں۔قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ جاؤ اور دستک دو اور سلام کرو اور اجازت لو۔اجازت ملے تو اندر داخل ہو نہیں تو واپس آجاؤ اور واپس آ جاؤ اسی میں تمہارے لئے تقویٰ کے حصول کی راہیں رکھی گئی ہیں۔غصے سے واپس نہ آؤ کہ بڑے بداخلاق ہیں انہوں نے ملنے کی اجازت نہیں دی۔وہ شخص بداخلاق ہے اسلامی نقطۂ نگاہ سے جسے اجازت نہیں ملی اور اس نے برا منایا کیونکہ قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ بُرا مناتے ہوئے واپس آ جاؤ۔قرآن کریم نے کہا ہے کہ ہنسی خوشی واپس آجاؤ۔تمہیں نہیں معلوم کہ وہ کس کام میں مشغول تھا اور اس وجہ سے تمہیں وہ نہیں مل سکتا تھا۔انصار اللہ جو ہیں وہ انصار بھی ہیں۔ان کی ذمہ داریاں اپنے دائرہ کے اندر گھروں سے باہر ہیں اور جماعت احمدیہ کے ایسے افراد ہونے کی حیثیت میں جو اپنی عمر کے لحاظ سے بڑے، تجربے کے لحاظ سے پختہ اور اگر لمبا عرصہ ان کا گزرا ہے احمدیت کی فضا میں تو علم بھی ان کا زیادہ