خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 66 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 66

خطبات ناصر جلد نهم ۶۶ خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۸۱ء زندگی کے جو حالات ہیں ان میں عظیم تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں۔خاموشی کے ساتھ ہم اپنے راستوں پر چلتے ہوئے اپنی زندگی نہیں گزار سکتے ، چوکس اور بیدار ہو کر ہر اس اچھی تبدیلی (نوع انسان کے لئے جو آج پیدا ہو رہی ہے ) اس کو دیکھنا ، اس کو سوچنا، اس کے مطابق اپنے ذہنوں میں تبدیلی پیدا کرنا ، جو نئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ان کو سلجھانے کے لئے تدابیر کرنا، قرآن کریم پر غور کرنا کیونکہ قیامت تک کے ہر نئے مسئلے کا حل قرآن کریم کے اندر موجود ہے اور خدا سے دعا کرنا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے علوم بڑوں کو بھی سکھائے اور نو جوان نسل میں بھی علم قرآنی کے حصول کا ایک جوش، ایک عشق، ایک جنون پیدا کرے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے لگیں۔گھر کا سولہ سال کا بچہ اپنے گھر میں یہ فضا نہیں پیدا کر سکتا۔یہ تو باپ فضا پیدا کر سکتا ہے یا ماں فضا پیدا کرسکتی ہے یا وہ کرسکتا یاوہ بھائی پیدا کر سکتا ہے جو اپنی عمر کے لحاظ سے بڑا ہے مثلاً گھر میں بھائی ہے تیں، پینتیس، چالیس سال کا قریباً انصار کی عمر کو پہنچا ہوا ہے اور کچھ بھائی ہیں، پندرہ ،سولہ، بیس سال کی عمر کے جو ایسی عمر میں داخل ہو رہے ہیں جس میں غلط قسم گندی قسم کی دوستی کے بداثر کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔ان کو اس وقت سنبھالنا، اس کے لئے دعا کی ضرورت ہے۔اگر اسلام اپنے ماننے والوں کا ربّ کریم کے ساتھ زندہ تعلق پیدا نہ کر سکتا تو اسلام کی ضرورت نہیں تھی نوع انسانی کو۔نوع انسانی کو آج اسلام کی ضرورت اس لئے ہے کہ یہ ضروری ہے انسان کی اس زندگی کی خوشحالی کے لئے بھی (جو دوسری زندگی ہے اس میں تو بہر حال ہے) لیکن اس زندگی کی خوشحالی کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ اس دنیا کی زندگی میں انسان کا ایک زندہ اور پختہ پیارکا اور فدائیت کا اور ایثار کا تعلق اپنے رب کریم سے پیدا ہو جائے۔الیسَ اللهُ بِكَافٍ عَبدَی کی انگوٹھی کا رواج ہے۔ہم میں کہ اللہ ہی اللہ ، یہی معنے ہیں نا اس کے۔اللہ بیلی، پنجابی میں کہتے ہیں۔”مولا بس۔یہ روح احمدی کے بچے میں اور بڑے میں پیدا ہونی چاہیے کہ ”مولا بس خدا کے علاوہ کسی چیز کی ضرورت نہیں ہمیں اور ہر چیز جس کی ضرورت ہے وہ اللہ تعالیٰ سے ہم لیں گے کسی اور طرف منہ پھیرنے کی ہمیں ضرورت نہیں۔اس خطبہ میں میں بڑوں کو یہ توجہ دلا رہا ہوں کہ اپنے گھروں کی صفائی کریں۔گھروں میں اخلاقی اور روحانی محسن پیدا کریں۔اپنے گھروں کی ظلمات دور کر کے انہیں منور بنائیں تا کہ آپ